https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

بالا خاتون کون تھیں، ان کی اصل زندگی کی تاریخ اور ان کا اصل نام کیا تھا؟

Infonaama > Information > History > بالا خاتون کون تھیں، ان کی اصل زندگی کی تاریخ اور ان کا اصل نام کیا تھا؟
بالا خاتون کون تھیں

بالا خاتون کون تھیں، ان کی اصل زندگی کی تاریخ اور ان کا اصل نام کیا تھا؟

ڈرامہ کرولوس عثمان دیکھنے والے اکثر ناضرین کے دماغ میں ضرور یہ سوال ابھرتا ہوگا کہ بالا خاتون کون تھیں؟ آیئے آج ہم اس سوال کا اس پوسٹ میں جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

بالا خاتون سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی بیوی تھیں۔ عثمان غازی کی پہلی شادی غالبأ 1280 عیسوی میں ہوئی تھی جب اس نے ملہن خاتون، جو کہ اناطولیہ کے ایک طاقتور سلجوک قبیلے کے سردار عمر عبدالعزیز کی بیٹی سے نکاہ کیا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہی ملہن خاتون، عثمان کے جانشین اورہان غازی کی والدہ تھیں۔

عثمان غازی کی دوسری شادی 1289 عیسوی میں ہوئی جب اس نے اس دور کے مشہور روحانی شخصیت شیخ ادیبالی کی بیٹی رابعہ بالا خاتون سے شادی کی۔ جو کہ آگے جا کر علائوالدین پاشا کی والدہ بنیں۔ اوروک کی تاریخ میں ان کا نام “رابعہ بالا خاتون” ہے۔ لیکن تین اہم مورخین جن میں درویش احمد، شمس الدین احمد عرف کمال پاشا زادے اور نصری شامل ہیں، کی رائے میں ان کا نام “ملہن بالا خاتون” تھا۔

اس رائے کے بعد اب الجھن یہ پیدا ہوگئی کہ شیخ ادیبالی کی بیٹی کا اصل نام کیا تھا ملہن بالا خاتون یا رابعہ بالا خاتون؟ آج کے سب سے قابل عثمانی مورخ، پروفیسر ڈاکٹر احمد شمشیرگل نے رابعہ بالا خاتون کی طرف ووٹ دیا ہے۔ یہ ملہن تھا یا رابعہ، لیکن یقینا اس کے ساتھ بالا خاتون ضرور موجود تھا اور اسی کی وجہ سے، کرولوس عثمان ڈرامہ میں بالا خاتون نام استعمال کیا جا رہا ہے۔

بالا خاتون کون تھیں؟
کرولوس عثمان ڈرامے کا ایک کردار بالا خاتون

بالا خاتون کون تھیں؟ 

بالا خاتون عثمان غازی کی دوسری بیوی تھی جو سلطنت عثمانیہ کے پہلے عظیم سلطان تھے۔ ان کی تاریخ پیدائش معلوم نہیں ہے لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اناطولیہ میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ شیخ ادیبالی کی بیٹی تھی جنھوں نے 1289 عیسوی میں عثمان غازی سے اس کی شادی کا اہتمام کیا۔ شیخ ادیبالی نے عثمان غازی سے اس کی نئی مسلم ریاست کے قیام کے خواب کے بارے میں جاننے کے بعد ان کی شادی پر اتفاق کیا۔ عثمان غازی نے شادی کے بعد ، بالا خاتون کو کوزگچ گاؤں تحفہ میں دیا جو کہ بلیجک کے ایک ضلع میں واقع تھا۔ 

تاریخ  کے مطابق بالا خاتون کا انتقال جنوری 1324 عیسوی میں ہوا۔ بالا خاتون کو بلیجک میں اپنے والد شیخ ادیبالی کے مقبرے میں دفن کیا گیا تھا۔ اس کے پوتے پوتیوں کے نام یلدرم بایزید، یعقوب سلوبی، نیفسہ خاتون، سلطان خاتون، خلیل بے، ابراہیم بے، مواد اول، سلیمان پاشا، شہزاد خلیل، اور فاطمہ خاتون تھے۔ 

واللہ اعلم۔

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner