https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

بو علی سینا ۔ جدید طب کا بانی ایک مفرور اور اشتہاری مجرم کیسے بنا

Infonaama > Information > History > بو علی سینا ۔ جدید طب کا بانی ایک مفرور اور اشتہاری مجرم کیسے بنا
بو علی سینا

بو علی سینا ۔ جدید طب کا بانی ایک مفرور اور اشتہاری مجرم کیسے بنا

بو علی سینا کی کہانی

اسلام و علیکم دوستوں۔ آج ہم بات کریں گے قرون وسطہ کے سب سے بڑے طبیب بو علی سینا کی۔ لیکن سوشل میڈیا پہ دستیاب ان گنت ویڈیوز اور آرٹیکلز کی طرح اس آرٹیکل میں بو علی سینا کی تحقیقات اور ان کے علمی کارنامے بیان نہیں کیئے جایئں گے۔ بلکہ ہم بات کریں گے ان پر لگے صدیوں پرانے داغ کی۔ اور یہ داغ انکی ذات پر تب تک لگا رہے گا جب تک حضرت انسان اس دنیا پر آباد ہے۔

دوستوں آپ نے اکثر خونخوار اور خطرناک مجرموں کے پوسٹر شہر کی دیواروں پر لگے دیکھے ہونگے۔ جس پر انکی تصاویر اور ملنے والے انعامات کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے پہلا اشتہاری اور مفرور مجرم کون تھا؟ جس کو پکڑنے کے لیئے حکومت کی جانب سے اسکی تصاویر دیواروں پر چسپاں کی گئیں۔ یہ شخص  کوئی اور نہیں بلکہ دنیا بھر میں علم طب کا باپ کہلایا جانے والا بو علی سینا ہی تھا۔

بو علی سینا ۔ جدید طب کا بانی

کئی علوم میں بے مثال محارت رکھنے والا یہ آدمی کیسے ایک مفرور مجرم بنا اور کس نے اس کے نام کے اشتہارات دیواروں پر سجوائے، آج یہاں آپ کو یہی سب جاننے کو ملے گا۔

سنہ 980 عیسوی، بخارا کے ایک گائوں میں ابو علی الحسین ابن سینا نامی ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہ اسکی خوش قسمتی تھی کہ اس دور میں بخارا علم و فنون کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا تھا۔ دنیا بھر سے ماہر اور جید علماء یہاں حصول علم کے لیئے آیا کرتے۔ لہٰذا ۵ سال کی عمر میں بو علی سینا کو بھی بخارا کے ایک مقامی مدرسے میں داخل کروا دیا گیا۔ اس بچے کا حافظہ اور ذہنی صلاحیتیں بہت تیز تھیں، یہ صرف ۱۰ سال کی عمر میں ہی حافظ قرآن بن گیا۔ اس کے بعد اس نے بخارا کے ماہر اساتذہ سے ریاضی، علم نجوم اور علم طب کی تعلیم لینا شروع کی۔ اور صرف 14 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنے کئی اساتذہ کو بھی ان علوم میں مات دے دی۔

اس کے بعد اسکی توجہ خصوصی طور پر علم طب یعنی بایئولوجی کی جانب مرکوز ہوئی۔ اور یہ دن رات علم طب کی کتابوں، مشاہدوں اور تجربات میں مصروف رہنے لگا۔ جب بو علی سینا صرف 16 سال کے تھے تو بخارا کا حاکم نوح بن منصور شدید بیمار پڑ گیا۔ اتنا شدید کہ اس کے دربار کے شاہی طبیب بھی حاکم بخارا کا علاج تو دور، مرض کی تشخیص سے بھی قاصر تھے۔ تب بو علی سینا بخارا کے شاہی دربار میں ظاہر ہوئے اور حاکم بخارا کا علاج شروع کر دیا۔ صرف چند روز کے علاج سے ہی وہ ایسا صحتمند ہو گیا کہ جیسے کبھی بیمار ہوا ہی نہ تھا۔ بخارا کا یہ حاکم بو علی سینا سے اتنا خوش ہوا کہ ان کو نہ صرف اپنا شاہی طبیب مقرر کیا بلکہ شاہی کتب خانہ بھی انکے حوالے کر دیا۔

بو علی سینا ۔ جدید طب کا بانی

یہاں رہ کر ابن سینا نے طب کے علاوہ دیگر بہت سے علوم میں مہارت حاصل کی۔ نہ صرف کتابوں کا مطالعہ کیا بلکہ بہت سی شاہکار کتب کو تحریر بھی کیا۔ ابن سینا کی علمی مہارت اور حاکم بخارا سے اسکی قربت کے سبب، بہت سے شرپسند عناصر ان سے دشمنی پر اتر آئے تھے۔

ہوا یوں کہ ایک روز بخارا کے شاہی کتب خانے میں آگ لگ گئی اور تمام کتابیں جل کر خاک ہو گئیں۔ بہت سے درباریوں نے اس حادثہ کی تمام ذمہ داری ابن سینا پر عائد کی اور اس پر یہ الزام لگایا، کہ بو علی سینا چونکہ کتب خانہ کی تمام کتابیں پڑھ چکا ہے، اور وہ نہیں چاہتا کہ اتنا علم کوئی اور بھی حاصل کر  لے لہٰذا اس نے یہ کتب خانہ ہی نظر آتش کر دیا۔ حاکم بخارا نے ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ اور ابن سینا کا عہدہ اپنی جگہ برقرار رہا۔

لیکن بو علی سینا اپنی غیر معمولی ذہانت کے سبب یہ ادراک کر چکے تھے کہ بخارا کے لوگوں کی یہ مخالفت، ایک نہ ایک روز اسے ضرور کوئی نقصان پہنچائے گی۔ سو وہ ایک روز چپ چاپ اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر سلطنت خوارزم چلے آئے۔ یہاں کے بادشاہ اور وزیر آعظم دونوں ہی علم دوست اور علماء کے قدردان لوگ تھے۔ اور اسی وجہ سے دنیا بھر سے آئے دانشور انکے دربار میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ جن میں مشرق کے مشہور عالم ابو ریحان البیرونی بھی شامل تھے۔ سلطنت خوارزم میں بو علی سینا کو بھی نے حد پذیرائی ملی اور انکو ایک خاطر خواہ وضیفہ دیا جانے لگا۔ معاشی بے فکری اور سکون حاصل کرنے کے بعد ابن سینا مکمل طور پر تجربات اور مشاہدات میں غرک ہو گئے۔

بو علی سینا ۔ جدید طب کا بانی

ان کے سکون کو دھچکا اس وقت لگا جب سلطان محمود غزنوی نے خوارزم پر حملہ کیا۔ خوارزم فتح کرنے کے بعد محمود غزنوی نہ صرف یہاں کا شاہی کتب خانہ اپنے ساتھ لے گئے بلکہ انھوں نےیہاں کے تمام علماء اور دانشوروں کو بھی حکم دیا کہ وہ تمام کے تمام غزنی میں انکے دربار میں حاظر ہوں۔ البیرونی سمیت متعدد علماء نے محمود غزنوی کے اس حکم کو ماننے میں ہی عافیت سمجھی۔ جبکہ بو علی سینا نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ صحراء میں راہ فرار اختیار کی۔ جب سلطان محمود غزنوی کو بو علی سینا کی اس حرکت کا علم ہوا تو انھوں نے تمام شہروں میں ایک شاہی فرمان بھجوایا جس میں لکھا تھا کہ جو بھی بو علی سینا کی موجودگی کا سراغ لگائے گا، اسے بے انتہا انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ کئی سالوں تک ابن سینا گائوں گائوں اور شہروں شہروں چھپتے رہے۔ اور کاروان سرائے میں آئے لوگوں کا علاج معالجہ کر کے اپنی روزی روٹی کماتے رہے۔

جدید طب کا بانی ایک اشتہاری مجرم کیسے بنا

جلاء وطنی کے دور میں ان حالات کے باوجود ابن سینا نے درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں۔ کافی سال یوںہی بھٹکتے رہنے کے بعد بالآخر عالم اسلام کے اس ممتاز عالم کو امیر ہمدان نے نہ صرف پناہ دی بلکہ اپنے دربار میں ایک وزارت بھی عطاء کی۔ لیکن درباری سیاست اور حسد نے یہاں بھی ابن سینا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ایک روز ہمدان کے کچھ فوجی افسران سے انکی علمی بحث ہوئی جس پر یہ افسر اتنے ناراض ہوئے کہ انھوں نے ابن سینا کے قتل کا مطالبہ کیا۔ سپاہی انکے گھر آئے اور انھیں یہاں نہ پا کر انکا تمام مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔ اور امیر سے انکے قصاص کا مطالبہ کیا۔ ابن سینا کو ان تمام حالات کی اطلاع قبل از وقت ہو چکی تھی اس لیئے انھوں نے یہاں سے بھی راہ فرار اختیار کی۔

ابن سینا پر مذہبی بےراہ روی، بدعت اور مردہ انسانی جسموں کے پوسٹ مارٹم کے الزمات تھے۔ امیر ہمدان نے اپنی فوج کے دبائو میں آکر یہاں بھی انھیں مفرور اور اشتہاری قرار دیا۔ اور کاغذ پر انکی تصویر بنا کر ریاست کے دور دراز علاقوں میں دیواروں پر چسپاں کر دی گئیں۔ یوں ابن سینا کو طب کے باپ کے ساتھ ساتھ دنیا کے پہلے اشتہاری مجرم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

 جدید طب کا بانی یا ایک اشتہاری مجرم

انکی زندگی کا بیشتر حصہ روپوشی کی حالت میں گزرا اور انھوں نے اپنی شہرہ آفاق کتابیں بھی انہی مشکل تریں حالات میں تحریر کیں۔ مذہبی علماء کی جانب سے نہ صرف انکی زندگی میں انکی مخالفت کی گئی بلکہ آنے والی کئی صدیوں تک انھیں بدعتی کہا جاتا رہا۔

عالم اسلام کے ایک بااثر عالم امام غزالیؒ نے بھی ابن سینا کو منکر قرار دیا اور وہ لکھتے ہیں “ارسطو کے فلسفے کی اشاعت و ترویج کی وجہ سے ہمیں دو فلسفیوں، ابن سینا اور الفارابی نیز ان کے پیروکاروں کو منکر قرار دے دینا چاہیئے“۔ جبکہ حقیقت میں ابن سینا حافظ قرآن اور راسد العقیدہ مسلمان تھے۔

انکی مشکل ترین زندگی کی وجہ ان کے خلاف ہونے والی درباری سازشیں تھیں۔ جو لوگ انھیں علم و حکمت کے میدان میں نہ ہرا سکے، وہ عمر بھر ان کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے۔ اس عظیم مسلمان سائنسدان کی زندگی بھلے ہی مشکل میں گزری لیکن موجودہ دور میں ان کی تصنیفات اور ان کے پیش کردہ نظریات کو مغرب سمیت دنیا بھر میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ اور ان کی کتابیں آج بھی میڈیکل اسٹوڈنٹس کے لیئے ایک رہنماء کا درجہ رکھتی ہیں۔

Watch more video like this on our Youtube Channel

ابن سینا کی زندگی میں ان پر لگنے والا بدنما داغ

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner