https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

تگودار احمد خان – چنگیز خان کا پوتا اور ہلاکو خان کا بیٹا جس نے اسلام قبول کیا

Infonaama > Information > History > تگودار احمد خان – چنگیز خان کا پوتا اور ہلاکو خان کا بیٹا جس نے اسلام قبول کیا
احمد تگودار خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا

تگودار احمد خان – چنگیز خان کا پوتا اور ہلاکو خان کا بیٹا جس نے اسلام قبول کیا

تگودار احمد خان، ہلاکو خان کا ساتواں بیٹا تھا۔ ہلاکو خان چنگیز خان کا وہ پوتا، جو دنیا کے تمام حصوں سے دین اسلام کا نام و نشان مٹا دینا چاہتا تھا۔ وہ مرتے دم تک اپنے چچا زاد بھائی برکے خان سے صرف اس لیئے جنگ کرتا رہا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن یہ بات ہلاکو کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ جس دین کی نفرت میں وہ دن رات جھلس رہا تھا اسکی اپنیی ہی اولاد اس دین کی سب سے بڑی محافظ بن جائے گی۔

جی ہاں دوستوں ہلاکو خان کا اپنا بیٹا تگودار خان جو اسکے بعد اسکی سلطنت کا وارث اور حکمران بنا، اس نے نہ صرف اپنی جوانی میں اسلام قبول کیا بلکہ اسلام کی خاطر اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا۔

تگودار احمد خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا
احمد تگودار خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا

ہلاکو خان کا یہ بیٹا اپنی ماں کے دین یعنی عیسائیت کا ماننے والا تھا۔ اور اپنے باپ کی طرح مسلمانوں سے نفرت و حقارت اسکے خون میں شامل تھی۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ اسلام کی حقانیت اس وحشی منگول پر عیاں ہو گئی۔ اور اسکی زندگی ایک پاکیزہ مسلمان کے روپ میں ڈھل گئی۔

یہ اس دور کی بات ہے کہ جب الف لیلیٰ کی حیرت ناک داستانوں کا شہر عراق ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ طاطاریوں نے مسلمانوں کی عظمت کے ہر نشان کو پیروں تلے روند ڈالا تھا۔ مسلمانوں کے حوصلے اس قدر پست ہو چکے تھے کہ طاطاریوں کا ایک معمولی سپاہی ۱۰۰ مسلمانوں کو بھیڑ بکلری کی طرح ہانک کر اپنے لشکر گاہ کی جانب لے جاتا۔ البتہ مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا تھا جسے یقین تھا کہ حالات پھر سے بہتر ہو جائیں گے۔اور یہ گروہ تھا پیوند لگی ابائیں پہنے اس دور کے صوفیاء اور اولیاء اللہ کا۔

تگودار احمد خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا
احمد تگودار خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا

ایسے ہی اللہ کے ایک ولی کا سامنا تگودار خان سے اس وقت ہوا کہ جب وہ اپنی مستی میں مگن شکار کے لیئے روانہ ہو رہا تھا۔ تگودار جس کی رگوں میں ہلاکو خان کا خون دوڑ رہا تھا۔ اس نے اپنے راستے میں جب ایک بوڑھے مسلمان کو دیکھا تو رعونت اور حقارت سے بولا

بتا اے بڈھے! تیری یہ داڑھی اچھی ہے یا میرے کتے کی دم؟

اس درویش نے وحشی طاطاری کی اس تلخ بات کو نہایت تحمل سے سنا اور انتہائی پر سکون آواز میں جواب دیا۔

اے سردار! میں اپنے مالک کا کتا ہوں۔ اگر میں اپنی جانثاری اور وفاداری سے اسے خوش کر سکوں تو میری داڑھی اچھی ہے ورنہ آپ کے کتے کی دم اچھی ہے، جو آپ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور آپ کے لیئے شکار مار کر لاتا ہے

اس جواب میں انکساری سے زیادہ دانائی اور صداقت تھی، طاطاریوں کا وہ سردار جو اب تک اپنے خون کی حدت سے ٹمٹما رہا تھا یہ جواب سن کر پریشان سا ہوگیا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولا کہ اے بزرگ تو نے بالکل سچ کہا کیا تو یہ پسند کرے گا کہ کچھ وقت ہمارے ساتھ رہ کر ہمیں میزبانی کا شرف بخشے؟ تیری دانائی اور معاملہ فہمی قابل قدر ہے۔ درویش نے تگودار خان کی درخواست بخوشی قبول کر لی اور اسے خلوت میں دین اسلام اور سیرت طیبہ بتاتا رہا۔ یہاں تک کہ جب یہ درویش رخصت ہونے لگا تو تگودار خان نے اسلام تو قبول کرلیا لیکن بغاوت کے اندیشے کے پپیش نظر اپنی قوم کو منانے کے لیئے کچھ وقت طلب کیا۔ اور بزرگ کو دوبارہ اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔

تگودار احمد خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا
احمد تگودار خان ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا

لیکن موت نے اس درویش کو اتنی مہلت نہ دی کہ وہ دوبارہ تگودار خان کے پاس جا سکے۔ البتہ انھوں نے اپنے فرزند کو تگودار خان کے پاس جانے اور اسے اسلام کی تبلیغ کرنے کی وصیت کی۔ یہ نوعمر لڑکا جب تگودار خان کے محل پہنچا تو وہاں تگودار پہلے ہی تمام سرداروں کو اسلام قبول کرنے پر رضامند کر چکا تھا۔ سوائے ایک طاقتور سردار کے۔ جسے صرف اپنے زور بازو اور تلوار پر یقین تھا۔

درویش زادے نے جب اس سردار تک اسلامی تعلیمات پہنچائیں تو اس نے درویش زادے کو مقابلے کے لیئے للکارا۔ اور کہا کہ اگر درویش زادہ دوبدو کشتی میں اسے ہرا دیتا ہے تو وہ اسلام قبول کر لے گا۔ یہ ایک بے جوڑ مقابلہ تھا، کہاں پہاڑ جیسا وحشی طاطاری سردار، اور کہاں یہ نحیف و ناتواں درویش زادہ۔ لیکن درویش زادے نے تگودار خان کے منہہ کرنے کے باوجود نہ صرف یہ چیلنج قبول کیا بلکہ کشتی کے دوران طاطاری سردار کو دھول بھی چٹا دی۔ یوں تگودار خان نے تمام منگول سرداروں سمیت اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام احمد رکھا۔

 ہلاکو خان کا مسلمان بیٹا
منگولوں کی تاریخ

اسلام قبول کرنے کے بعد ہلاکو خان کی باقی دیگر اولادیں اور بیویاں احمد تگودار خان کے سخت مخالف ہو گئے۔ اسکی سلطنت کے مختلف گورنر جو اس کے رشت دار بھی تھے، وقفہ وقفہ سے اسکی سلطنت میں بغاوتیں پرپا کرنے لگے۔ حتیٰ کہ اسکے بھائی اباکہ خان کے بیٹے ارغون کی بغاوت کامیاب ہوئی اور احمد تگودار کو تخت سے اتار دیا گیا۔

احمد تگودار خان کو صرف اس لیئے پھانسی کی سزا سنائی گئی کہ انھوں نے اسلام قبول کیا اور کسی صورت اسے چھوڑنے پر رضامند نہ تھے۔ احمد تگودار کی موت کے بعد، ان سے متاثر ہونے والے منگول جوق در جوق اسلام قبول کرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ دین اسلام کی سب سے بڑی دشمن قوم آنے والے ادوار میں اسکی سب سے بڑی محافظ کہلائی۔

Watch video on Tekudar Khan on our Youtube Channel

تگودار احمد خان

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner