https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,DirectLink_1,16138848,https://www.alternativecpmgate.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,Popunder_1,16138837,"" infonaama.com,SocialBar_1,16325257,""

حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے کی دنیا

Infonaama > Islamic > حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے کی دنیا
حضرت آدم کی تخلیق

حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے کی دنیا

حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے کی دنیا اور اس میں بسنے والی مخلوقات

دوستوں اس تحریر میں ہم آپ کو حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے اس دنیا میں کیا تھا اس بارے میں بتائیں گے۔

حضرت آدم اس میں دنیا میں بھیجے گئے پہلے انسان اور بھی تھے جبکہ آخری نبی حضرت محمد ہیں۔ لیکن روایات کے مطابق حضرت آدم سے پہلے بھی ایک نبی کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ نبی انسانوں پر نہیں بلکہ قوم  جنات کی جانب بھیجے گئے تھے۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت آدم کے اس دنیا میں میں بھیجے جانے  سے قبل کرہ ارض پر جنات کی آبادی موجود تھی۔ جنات ایک ایسی مخلوق جو دور حاضر تک پراسراریت کے  گہرے پردوں پر لیٹی ہوئی ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل دنیا میں جنات کے حوالے سے عجیب و غریب تصورات پائے جاتے۔ دنیا کے اکثر خطوں میں لوگ جنات نامی مخلوق کو اچھی اور بری روحوں کا نام دیتے۔ جو ان کے مطابق مرد افراد میں سے نکل کر معاشرے میں اچھائی یا برائی پھیلانے کا سبب بنتی۔ ان سے مدد طلب کرتے اور ان کے شر سے پناہ مانگتے۔ 

  جہاں اسلام کی آمد کے بعد بہت سے راز فاش ہوئے۔ ان میں سے ایک پہیلی نظر نہ آنے والے اس پر اسرار مخلوق کی بھی تھی۔ اسلام نے ہی جنات کی حقیقت انسانوں پر واضح کی۔ قرآن پاک  میں ہی جنات کاذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا جس سے ثابت ہوا کہ یہ بھی اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ایک مخلوق ہے  نہ کہ مردہ انسانوں کی روحیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جن ایک ایساوجود ہے۔ جو انسانوں کے بر عکس آگ کے شعلوں سے تخلیق کیا گیا۔  جبکہ انسان خاک سے پیدا ہوا۔ جنات ادراک اور حق و باطل میں کیس کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ یہ مخلوق انسانوں کی ہی طرح فرائض اور ذمہ داری بھں رکھتی ہے۔ جنات نامی مخلوق جزا و سزا اور حساب کتاب سے مستثنا نہیں۔ جنات میں ایک گروہ مؤمن جبکہ دوسرا مشرک و کافر ہے۔

جنات میں انسانوں تک پہنچنے کی طاقت  اور غیبں خبروں کو سننے کی صلاحیت بھی تھی جو حضور ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد روک دی گئی۔ ان میں سے بعض ایسے پائے جاتے ہیں کہ جن کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ زمین پر جنات کی خلقت انسانوں سے پہلے ہوئی تھی جبکہ دور حاضر میں بھی جنات کی تعداد انسانوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ 

 اب ہم کچھ روشنی اس سوال پر ڈالتے ہیں کہ کیا انسانوں کی طرح جنات کی جانب بھی پیغمبر بھیجے گئے  تھے….؟ قرآن مجید کے مطابق جنات بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں۔ وہ بھی سزا و جزا کے پابند ہیں اور انہیں  بھی اعمال بد کی بناد پر جہنم کی آگ میں جانا ہو گا۔ تو اس سلسلے میں کہا یہ جاتا ہے کہ جنات کی تاریخ  دو  زمانوں پر مشتمل ہے۔ پہلا زمانہ بنی نوع انسان کی خلقت سے پہلے کا ہے کہ جب جنات اکیلے ہی اس دنیا پر آباد تھے۔ جبکہ دوسرا زمانہ انسانوں کی خلقت کے بعد کا ہے۔ دوسرا زمانہ جو انسانوں اور جنات کا مشترکہ زمانہ  ہے۔ اس زمانے میں جنات کو پیغمبروں کی پیروی کا حکم تھا جو انسانوں کے در میان مبعوث ہوتے تھے۔ اسی  بنیاد پر بہت سے جنات اللہ کی طرف سے بھیجے گئے پیغمبروں پر ایمان لائے۔ اور بعض جنات جو ایمان نہ  لائے وہ کافر ہوئے۔

جبکہ جنات کی تاریخ کا اولین زمانہ کہ جب انسانوں کی تخلیق عمل میں نہ آئی تھی۔ قوم جنات کی ہدایت کے لیے ان میں انہی میں سے پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک کی اس آیت کے ذریعے ہوتی ہے۔ 

ترجمہ

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں  میرے احکام سناتے تھے اور وہ تمہیں ڈراتے تھے اس دن کی ملا قات سے“۔

(سورہ الانعام: آیت 130)

 اس آیت کا مفہوم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے یا ان کی خلقت کے بعد جنات  کے لیے پیغمبر تھے۔ لیکن قدرتی بات ہے کہ بنی نوع انسان سے پہلے یہ پیغمبر ان کی اپنی نوع سے ہی تھے۔  نوع جنات میں بھیجے گئے پیغمبروں کے حوالے سے باب العلم حضرت علی کی ایک روایت بھی ملتی ہے۔ جو  کچھ یوں ہے…. ملک شام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت علی نے پوچھا کہ  کیا اللہ نے جنات  کی جانب کسی پیغمبر کو بھیجا ہے…؟ تو جواب میں حضرت علی نے فرمایا۔

ہاں، ایک پیغمبر جس کا نام یوسف تھا، جنات کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا لیکن انہوں نے اسے شہید کر دیا” ۔” 

اس روایت کی تفسیر میں بہت سے مؤرخین و مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم کی تخلیق سے قبل کرہ ارض پر جنات کی آبادی تھی جو ہر وقت فسق وفجور میں مبتلا ہے اور زمین پر فساد برپا کرتے۔ چنانچہ اللہ پاک نے ان کی جانب یوسف نامی ایک پیغمبر کو مبعوث کیا جبکہ کچھ مؤرخین جن میں علامہ جلال الدین سیوتی بھی شامل ہیں انہیں پیغمبر نہیں بلکہ جنات کا باد شاہ یا لیڈر خیال کرتے ہیں۔ یوسف نامی اس بستی کی جانب سے جنات  کو جنگ و جدل سے بعض رکھنے کی کوششیں کی گئیں اور انہیں ان کی زندگی کے مقصد یعنی خدائے واحد کی  عبادت کی جانب بلایا گیا لیکن جنات چونکہ آگ سے بنے تھے لہذا فطری طور پر نہایت سرکش ثابت ہوئے۔ انہوں نے ان پیغمبر کامذاق اڑایا، انہیں تنگ کیا اور بالآخر انہیں قتل کر دیا۔

پھر جب اللہ تعالی نے فرشتوں پر اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے اپنے     گزشتہ تجربے کی بنیاد پر کہا کہ کیا تو ایسے شخص کو زمین پر خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو وہاں فساد پھیلانے اور خون بہائے۔ اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اور اس کے بعد حضرت آدم کی تخلیق اور ابلیس کی جانب سے حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ اکثر علماء کرام ابن کثیر کی اسبات سے اختلاف کرتے ہیں کہ اس دنیامیں جنات سے پہلے ہن اور بن نامی کوئی قوم آباد تھی اور ان روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن علمائے جمہور کی رائے اس بات پر متفق ہے کہ جنات کی تخلیق حضرت آدم سے  قبل ہوئی۔ انہیں آگ کے ذریعے تخلیق کیا گیا۔ قوم جنات بھی انسانوں کی طرح سزا اور جزا کی پابند ہے اور ان پر بھی انسانوں کی طرح ہی پیغمبر بھیجے گئے۔  

واللہ و اعلم

 آخر میں یہی کہوں گا کہ بے شک الله پاک ہی وہ ذات ہے جو تمام حقیقتوں کو بخوبی جانے والا ہے۔

Watch complete video on our Youtube channel

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner