https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

عوج بن عنق ایک دیو قامت انسان جو موسیٰٔ کے ہاتھوں مارا گیا

Infonaama > Information > History > عوج بن عنق ایک دیو قامت انسان جو موسیٰٔ کے ہاتھوں مارا گیا
عوج بن عنق کی کہانی

عوج بن عنق ایک دیو قامت انسان جو موسیٰٔ کے ہاتھوں مارا گیا

آج ہم آپ کو عوج بن عنق نامی اس دیو قامت شخص کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت آدمٔ کے دور میں پیدا ہوا اور حضرت موسیٰٔ کے ہاتھوں قتل ہوا۔

آپ نے اکثر فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں دیو قامت انسان ضرور دیکھے ہونگے۔ جو لمبی چوڑی جسامت کے ساتھ ساتھ بھرپور قوت کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ سندباد جہازی کے سفرنامے ہوں یا الف لیلیٰ کی داستانیں، کئی کتابیں ایسے دیو قامت انسانوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔ جو کسی عام انسان کو اپنے ہاتھوں سے مسل دینے اور پیروں سے کچل دینے پر قادر تھے۔

عوج بن عنق کی کہانی
عوج بن عنق کی کہانی

لیکن دوستوں فلموں اور ڈراموں کے ساتھ ساتھ ایک ایسے شخص کا تذکرہ بھی تاریخی کتابوں میں موجود ہے جس کے طویل قد کا یہ عالم تھا کہ وہ سمندروں میں چلتا اور ڈوبتا نہیں تھا۔ روایتوں کے مطابق اس شخص نے 3500 برس کی عمر پائی۔ اس نے حضرت آدمٔ سے لے کر حضرت موسیٰٔ تک کے ادوار دیکھے۔ جبکہ اسی کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ طوفان نوح کے وقت حضرت نوح کی کشتی میں سوار نہ ہوا اور اس کے باوجود اس طوفان سے صحیح سلامت نکل آیا۔ یہ وہ واحد کافر شخص کہا جاتا ہے کہ جو طوفان نوح سے بچ نکلا۔ نذکرہ انبیاء اور دیگر تاریخی کتب میں اس شخص کا نام عوج بن عنق بتایا جاتا ہے۔

اسکی ماں کا نام صفورہ تھا۔ جو حضرت آدمٔ کی بیٹی تھیں۔ عوج بن عنق کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سمندر کی تہہ میں ہاتھ ڈال کر مچھلی پکڑ لاتا اور اپنی لمبائی کے سبب اسے سورج کی تپش سے بھون کر کھاتا تھا۔ یہ طویل قامت شخص انتہائی سرکش، کافر اور جابر تھا۔ عوج بن عنق کا قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے

جب حضرت موسیٰٔ قوم بنیٰ اسرائیل کو فرعون کی قید سے بحفاظت نکال لائے، تو اللہ تعالیٰ نے بنیٰ اسرائیل سے فرمایا کہ جہاد کرو اور امالیکہ نامی قوم سے ملک شام چھین لو۔ پھر ہمیشہ کے لیئے وہ ملک تمھارا ہوگا۔ حضرت موسیٰٔ نے 12 لوگوں کو بنیٰ اسرائیل کے 12 قبیلوں کا سردار مقرر کیا تھا۔ آپٔ نے انکو ملک شام کے حالات کی خبر لانے اس ملک میں بھیجا۔ یہاں ان سرداروں کا سامنا عوج بن عنق نامی اس دیو قامت انسان سے ہوا۔ اس نے ان سرداروں کی حقیقت جاننے کے بعد ان سب کو پکڑ لیا۔ اور دکھانے کے لیئے انھیں اپنی بیوی کے پاس لے آیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ دیکھو یہ مجھ سے لڑنے کو آئے ہیں۔ یہ کہہ کر انکو زمین پر رکھا اور چاہتا تھا کہ انکو چیونٹیوں کی طرح مسل دے۔ لیکن اسکی بیوی نے ان سب سرداروں کی جان بخشی کروا دی۔

عوج بن عنق کی کہانی
عوج بن عنق کی کہانی

یہ سب سردار اس قوم کی کثرت اور قوت دیکھ کر بہت زیادہ ڈر گئے۔ انھوں نے واپس آ کر حضرت موسیٰٔ سے وہاں کا حال بیان کیا۔ اور یہ بھی بتایا کہ ادھر کے پھل بھی بہت بڑے ہیں۔ انار کا صرف ایک دانہ ایک آدمی کا پیٹ بھرنے کے لیئے کافی ہے۔ اس پر حضرت موسیٰٔ نے ان تمام سرداروں سے کہا۔

تم قوم کے سامنے ملک شام کی خوبیاں بیان کرنا اور دشمن کی طاقت و قوت بالکل بیان مت کرنا۔

لیکن اللہ کے پیغمبر کی اس بات پر صرف 2 افراد یوشہٰ بن نون اور کالوت بن کتادہ ہی قائم رہے اور باقی تمام سرداروں نے ملک شام میں بسنے والے لوگوں کی طاقت و قوت کا حال قوم بنیٰ اسرائیل کو سنا دیا۔ جس پر بنیٰ اسرائیل نے چاہا کہ وہ جہاد میں نہ جائیں۔حضرت موسیٰٔ نے انھیں سمجھایا کہ

اے لوگوں تم نہ گھبرائو، میرے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ نصرت فرمایا ہے کہ میں تمھیں ان کافروں پر فتح دوںگا۔

دوسری طرف بنیٰ اسرائیل نے حضرت موسیٰٔ سے کہا کہ اے موسٰی وہاں بے شک ایک زبردست قوم ہے۔ ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔ یوشہٰ بن نون اور کالوت بن کتادہ نے بھی اپنی قوم کو ترغیب دی کہ وہ اللہ پر یقین رکھیں اور حملہ کریں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ تو اور تیرا رب، دونوں جا کر ان سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے قوم بنیٰ اسرائیل کی اس نافرمانی کے سبب 40 سال تک ملک شام کی سرزمین ان پر حرام کردی۔ اور یہ قوم 40 سال تک جنگلوں اور صحرائوں میں بھٹکتی رہی۔

روایتوں کے مطابق اپنی قوم کی نافرمانی کے بعد، حضرت موسیٰٔ خود ہی عوج بن عنق کے خاتمے کی لیئے روانہ ہوئے۔ جب عوج نے انھیں دیکھا تو چاہا کہ اپنے پیروں سے انھیں مسل دے۔ اور کہا کہ تو ہے قوم بنیٰ اسرائیل کا وہ سردار، جس نے فرعون کو دریائے نیل میں ڈبو دیا ہے۔ پھر اس نے حضرت موسیٰٔ پر حملہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ سلام نے بھی جوابی حملہ کیا۔ اور 10 گز اوپر اچھل کر اسکے ٹخنوں پر اپنا عصاء مارا۔ یہ ضرب اتنی کاری ثابت ہوئی کہ عوج بن عنق نامی یہ دیو قامت شخص وہیں گر کر مر گیا اور اسکی ہڈیاں مدتوں اس میدان میں پڑی رہیں۔

عوج بن عنق کی کہانی
عوج بن عنق کی کہانی

بہت سی کتب تفاسیر اور تارخ کی کتابوں میں لکھے عوج بن عنق کے واقعے کے باوجود، مشہور مورخ ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں عوج بن عنق نامی کسی بھی شخص کی موجودگی کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ابن کثیر کا کہنا ہے کہ طوفانِ نوح کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں میں سے کوئی چلتا پھرتا شخص زندہ نہیں چھوڑا۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے مرویٰ ہے کہ

رسول اللہﷺ نے فرمایا: “نوحٔ اپنی قوم میں پچاس کم ہزار سال ٹھہرے۔ انھوں نے 100 سال شجر کاری کی، وہ درخت بڑے ہوئے تو انکو کاٹا اور ان کی کشتی تیار کی۔ لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور مذاق کرتےاور کہتے تو خشکی میں کشتی بنا رہا ہے، وہ چلے گی کیسے؟ تو نوحٔ فرماتے تمھیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔ جب نوح علیہ السلام کشنی بنا کر فارغ ہوئے تو زمین سے پانی ابلا اور گلیوں میں پھیلا، تو ایک بچے کی ماں اپنے بچے پر ڈری، اسے اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت تھی، وہ اسکو لے کر پہاڑ کی طرف نکلی اور ایک تہائی بلندی تک پہنچی جب پانی وہاں تک پہنچ گیا وہ بچے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے کر چلی گئی، جب پانی اسکی گردن تک پہنچا تو اس نے بچے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا، پھر وہ دونوں ڈبو دیئے گئے۔ اگر اللہ قوم نوح میں سے کسی پر رحم فرماتا تو بچے کی ماں پر رحم فرماتا۔ (مستدرک للحاکم)۔

جبکہ عوج بن عنق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہا درجے کا کافر،  سرکش اورنافرمان تھا۔ وہ نوحٔ کو کشتی میں سوار دیکھ کر کہتا یہ تیرا تھال کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اور ان سے مذاق کرتا۔ حافظ ابن کثیر کے مطابق عوج ابن عنق نامی شخص کی کہانی جھوٹی اور من گھڑت ہے۔جسکی تردید بخاری اور مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اللہ نے آدمٔ کو پیدا کیا اور اسکا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ اور اب تک انسانوں کے قد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

اس حدیث کا تقاضہ یہ ہے کہ آدمٔ کی اولاد میں آدم علیہ السلام سے زیادہ قد کا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان حدیث نبویٰﷺ پر ہے۔ نہ کہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں بیان کردہ قصوں اور کہانیوں پر۔ جبکہ موجودہ دور میں سائنسی تحیقات سے بھی اس بات کی تردید ہوجاتی ہے کہ کوئی شخص فضاء میں ہاتھ بلند کرے اور مچھلی بھون لے۔ کیونکہ ہم جیسے جیسے زمین سے اوپر جاتے ہیں سردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیئے پہاڑوں پر ٹھنڈک ہوتی ہے۔ عوج بن عنق کا افسانہ تیار کرنے والا جھوٹا شخص چونکہ اس حقیقت سے نا آشناء تھا، اس لیئے وہ اس کے قد کی لمبائی میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ہاتھ اونچا کر کے سورج کی گرمی سے مچھلی بھون لیتا تھا۔ حالانکہ اگر اسکا قد میلوں لمبا بھی فرض کر لیا جائے تو بھی مچھلی اوپر کرنے سے بھننے کے بجائے جمنا شروع ہو جاتی۔

Please visit our Youtube channel for more videos like this

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner