https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,DirectLink_1,16138848,https://www.alternativecpmgate.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,Popunder_1,16138837,"" infonaama.com,SocialBar_1,16325257,""

ننھی خواہش ۔ معاشرے کی عکاسی کرتی کہانیاں

Infonaama > kahaniyan > ننھی خواہش ۔ معاشرے کی عکاسی کرتی کہانیاں

ننھی خواہش ۔ معاشرے کی عکاسی کرتی کہانیاں

ننھی خواہش

 ‘‘اماں…. اماں  میری بات سن مجھے یہ والی گڑیا لے دے نا’’۔ بارہ سالہ شائستہ نے اپنی ماں سے اپنی ننھی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کی ماں تیزی سے  ان چمکتی دکانوں کے سامنے سے گزر جانا چاہتی تھی ۔ ‘‘میری سوہنی دھی میں تجھے لے دوں گی پر اب جلدی سے چل ہمیں کام کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ بیگم صاحبہ غصہ ہوگی۔’’

لیکن آج شائستہ نے ضد پکڑ لی تھی کہ وہ گڑیا ضرور لے گی۔ وہ جانتی تھی کہ آج بھی اس کی ماں اسے بہلا رہی ہے سو وہ راستے میں ہی رُک گئی۔

حمیدہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے…. وہ چھ بچوں کو کھانا کھلائے یا شائستہ کو گڑیا لے کر دے۔

دل میں مختلف سوچیں لیے وہ کوٹھی میں پہنچی تو بیگم صاحبہ جیسے اسی کی منتظر تھیں۔ ‘‘حمیدہ تُو نے آج پھر دیر کردی۔’’ وہ شدید غصہ میں تھیں۔ ‘‘تم لوگوں کے نخرے بڑھتے جا رہے ہیں۔ روز نیا بہانہ بنادیتی ہو۔’’

‘‘نہیں بیگم صاحبہ وہ شائستہ ضد کر رہی تھی گڑیا  خریدنے کے لیے…. اس کو سمجھانے میں مجھے دیرہوئی ہے۔’’

‘‘واہ…. اب اس کی عمر  رہی ہے گڑیوں کےساتھ کھیلنے کی….؟ لگاؤ اسے بھی کسی کام پر کچھ پیسے ہی بن جائیں گے تمہارے۔’’ بیگم صاحبہ بولی۔

اور حمیدہ سوچ میں پڑ گئی۔ پھر خودبخود اس کے منہ سے نکل گیا۔ ‘‘بیگم صاحبہ کیا میں شائستہ کو کل سے کام پر لے آؤں….؟’’

‘‘لو یہ اچھی کہی تم نے، اری بی بی میرے کام تم خود کرو اور میں دو دو بندوں کو تین ٹائم کھانا نہیں کھلا سکتی۔ بہتر ہے اسے کسی اور کوٹھی پر ٹھہراؤ۔’’

حمیدہ حسرت زدہ دل لیے اپنے کام میں جُت گئی۔ بیگم صاحبہ کے رویہ نے اسے بڑی تکلیف پہنچائی تھی۔ وہ حیران تھی کہ جس کھانے کا بیگم صاحبہ طعنہ دے رہی تھیں یہ وہ بچے ہوئے نوالے تھے جو وہ اپنی پلیٹ میں بچادیتےتھے۔

دوسرے دن جب حمیدہ کام کے لیے اندر داخل ہوئی تو بیگم صاحبہ کا موڈ بڑا  اچھا تھا۔ وہ گزشتہ روز والی بیگم صاحبہ لگ ہی نہیں رہی تھیں۔ ‘‘اری حمیدہ کیسی ہے تو….؟ اچھا بات سن، میری بیٹی جو اسلام آباد میں رہتی ہے اس کو چھوٹی بچی کی ضرورت ہے اپنا بچہ کھلانے کے لیے، تو یوں کر کہ اپنی بیٹی کو بھیج دے۔ میری بیٹی اچھی تنخواہ دے  دے گی۔’’ یہ سنتے ہی حمیدہ خوش ہوگئی، اور بولی ‘‘بیگم صاحبہ میں کل ہی شائستہ کو لے آؤں گی۔ مجھ غریب کو اور کیا چاہیے۔ ہم دو لوگ کام کریں گے تو ہماری آمدنی بہتر ہوگی۔ آپ تو جانتی ہیں میں بیوہ عورت ہوں اور باقی بچےچھوٹے ہیں….’’

ٹھیک ہے ٹھیک ہے، ایک تو تم لوگوں سے ذرا سی بات کرو پوری کہانی سنا دیتے ہو۔’’ بیگم صاحبہچڑکربولی۔

حمیدہ آج جلد سے جلد گھر جانا چاہتی تھی تاکہ وہ شائستہ کو ذہنی طور پر تیار کرسکے۔ راستے میں پہلے وہ درزی کے پاس گئی اور بچی ہوئی کترن اٹھا کر گھر لے آئی۔ پھر اس نے خود ایک گڑیا بنائی اور شائستہ کو بلایا۔ ‘‘میری بچی یہ دیکھ میں نے تیرے لیے کیابنایاہے….؟’’

‘‘اماں کیا کھانے کو کچھ بنایا ہے….؟’’ شائستہ بولی۔ ‘‘سن…. نہیں…. یہ تیری گڑیا۔’’

‘‘اماں پر مجھے تو وہ دکان والی چاہیے۔ میں اپنی سہیلیوں کو دکھاؤں گی۔’’

‘‘میری بیٹی پھر تو ایسا کر کہ تو بھی کام کر، جب تیرے پیسے آئیں گے تو تو اپنے پیسوں سے اپنی گڑیا خرید لینا۔’’

ننھی شائستہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ ماں کی بات سن کر کیا کہے۔

‘‘بیٹی تجھے بیگم صاحبہ کی بیٹی کے گھر جانا ہے، وہ تجھے اچھے کپڑے کھانا سب کچھ دیں گے۔’’

‘‘اماں میں روز گھر آجاؤں گی ناں’’۔ شائستہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

‘‘نہیں میری بیٹی۔ تو ذرا دور جا رہی ہے۔ بیگم صاحبہ کی بیٹی اسلام آباد رہتی ہے۔ تو مہینے کے آخر میں آجایا کرنا اپنے پیسے لے کر۔ تجھے میں وہی نیلی آنکھوں والی گڑیا لے دوں گی۔’’

حمیدہ نے ساری تفصیل شائستہ کو بتا دی۔ گڑیا کا نام سن کر شائستہ بہت خوش ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں سپنے سجنے لگے۔ مگر اچانک ہی وہ افسردہ ہوگئی بولی ‘‘اماں مجھے تیرے بغیر نیند نہیں آتی اور اندھیرے سے بھی ڈر لگتا ہے۔’’ ‘‘اری جھلی دھی تو اللہ کا نام لے کر سو جانا اور دن گنتی جانا۔ مہینہ ایسے چٹکی بجا کر آجائے گا اور تو گھر آجانا۔’’ یہ سن کر شائستہ مطمئن.ہوگئی۔

اگلے دن بیگم صاحبہ نے شائستہ کو ڈرائیور کے ساتھ اپنی بیٹی کے گھر بھیج دیا۔ ڈری سہمی شائستہ گاڑی سے اتری تو ایک تلخ آواز نے اس کا استقبال کیا۔ ‘‘اے لڑکی ادھر آ،  کیا نام ہے تیرا۔

عورت اس سے پوچھ رہی تھی۔ ‘‘جی شائستہ’’ بمشکل اس کے منہ سے نکلا۔ ‘‘ٹھیک ہے آج سے تم نے اس بچے کو سنبھالنا ہے۔’’

عورت نے دو سالہ بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ‘‘اور ہاں میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر مت جانا اور کسی چیز کو بھی ہاتھ مت لگانا۔’’ اسے ہدایات دے کرعورت اپنے کاموں میںمصروف.ہوگئی۔

پہلے دن شائستہ کو ماں کی بہت یاد آئی مگر وہ اپنی ننھی سی خواہش کے بارے میں سوچتے اس نے خود کو حوصلہ دیا۔ وہ بچے کا بہت خیال رکھتی اور بچہ بھی جلد اس سے مانوس ہوگیا۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ بیگم صاحبہ  اچانک اسے انتہائی بے دردی سے پیٹنے لگی۔ اور بولی ‘‘حرام خور میرے پیسے کیوں نکالے ہیں…. جلدی نکال ورنہ ابھی تیری تکہ بوٹی کردوں گی۔’’

‘‘مگر بیگم صاحبہ میں نے تو آپ کے پرس کو دیکھا ہے اور نہ پیسوں کو۔’’

 ‘‘مجھے سب پتا ہے تم ایک چور لڑکی ہو، نکالو میرے پیسے….’’

‘‘مگر بیگم صاحبہ میری بات تو سنیں….’’ ننھی شائستہ قسمیں کھانے لگی، منتیں کرنے لگی لیکن اس ظالم عورت نے ایک نہ سنی اور اپنے نوکر سے بولی۔ 

‘‘افضل میں اور تمہارے صاحب ضروری کام سے کہیں جا رہے ہیں۔ ذرا اس مکار سے اگلواؤ کہ پیسے کہاں ہیں۔’’ شائستہ روتی رہی فریاد کرتی رہی مگر اس عورت پر ذرا نہ اثر ہوا۔

اگلے دن جب بیگم صاحبہ واپس آئیں تو نوکر نے بتایا کہ شائستہ گھر سے بھاگ گئی ہے۔ ‘‘ اور بدبخت تجھے جو چھوڑ کر گئے تھے اس سے اگلوانے کے لیے۔ الٹا وہ گھر سے بھاگ گئی۔’’ کچھ لمحے خاتون کے چہرے پر تفکرات کے سائے لہرائے مگر بہت جلد غائب ہوگئے اور پھر وہ بولی ‘‘چلو خیرخس.کم.جہاں.پاک۔’’

 ادھر حمیدہ کے دل کو عجیب بے چینی ہو رہی تھی۔ اللہ خیر میری شائستہ کیسی ہوگی۔ آج میں بڑی بیگم صاحبہ سے کہوں گی کہ میری شائستہ سے فون پر بات کروائے۔ کام پر پہنچتے ہی اس نے دل کی باتکہہ دی۔

‘‘بیگم صاحبہ جی کتنے دن ہوگئے ہیں میری بچی کو گئے۔ آپ میری بیٹی سے تو بات کروادیں کہ وہکیسیہے۔’’

‘‘ہاں، ہاں کروا دوں گی۔ ابھی تو اسے پندرہ دن بھی نہیں ہوئے۔’’ حمیدہ منت کرتی رہی کہ اسے اپنی بیٹی کی آواز سننی ہے اور بیگم صاحبہ اسےٹالتی.رہی۔

دو دن بعد اچانک جھونپڑی کے سامنے ایمبولنس آکر رکی۔

حمیدہ کو بلایا گیا اور بتایا گیا کہ اس میں تیری بیٹی کی لاش ہے….؟ سڑک کے کنارے ملی ہے۔ اس کے مالکوں کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے گھر سے بھاگ گئی تھی۔ چوری کی تھی اس نے۔

‘‘ن…. نہیں میری بیٹی چور نہیں۔’’ جب اس نے اپنی بچی کی لاش دیکھی تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ شدت غم سے وہ بے حال ہوگئی۔ شائستہ کے ہاتھوں اور پاؤں کے گرد رسیوں کے نشان اور ہونٹوں کے کنارے پھٹے ہوئے تھے۔ پورا محلہ اکٹھا ہوگیا۔ اچانککوئی بولا۔

‘‘ارے یہ تو پولیس کیس ہے۔ اور پھر پولیس آگئی۔ حمیدہ کو کوئی ہوش نہ رہا تھا۔

تفتیش ہوئی تو یہ ثابت ہوا کہ بچی کو تشد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

‘‘میری گڈی رانی تُو تو گڑیا کے لیے پیسے لینےگئیتھی۔’’

جب حمیدہ بیگم صاحبہ کے پاس گئی تو وہ ہمدردی کرنے کی بجائے بولی ‘‘اری بدبخت اس بات کو یہیں دبا دے۔ تیری بیٹی پچاس ہزار روپے چوری کرکے بھاگی تھی۔ دفع ہوجا اور یہ لے پانچ ہزار اس کے کفن دفن کےلیے، آخر ہم نے بھی اللہ کو جوابدیناہے۔’’

حمیدہ الٹے قدموں کے ساتھ واپس آگئی۔ اس کا دل پھٹ رہا تھا اور دہائی نکل رہی تھی۔

یہ کیسا انصاف ہے یا اللہ ہماری غربت نے ہمارا تماشہ بنا دیا۔ ہم مظلوم ہوتے ہوئے بھی مظلوم نہیں ہیں۔ کون سنے گا میری فریاد۔ میری بچی میری شہزادی۔  میرا جرم یہ ہے کہ میں غریب بے سہارا عورت ہوں ہم جیسے لوگ روڈ پہ پھینکے گئے کوڑے کی مانند ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner