https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,DirectLink_1,16138848,https://www.alternativecpmgate.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,Popunder_1,16138837,"" infonaama.com,SocialBar_1,16325257,""

پاکستان کے خوبصورت شہر – قصور

Infonaama > tourist plces > پاکستان کے خوبصورت شہر – قصور

پاکستان کے خوبصورت شہر – قصور

 Beautiful Cities of Pakistan

قصور

Kasur City

 سرسبز و شاداب گھنے درختوں سے ڈھکا، خوش رنگ و خوش ادا پھولوں کی مسحور کن خوشبوؤں سے مہکتا اور بارونق بازاروں سے سجا، خوش گفتار لوگوں کا شہر قصور، اپنی رعنائی اور دلکشی کے باعث اپنی مثال آپ ہے۔ قدیم و جدید طرز اس شہر کو عجب دلکشی عطا کرتا ہے۔

قصور کی مقبولیت اور شہرت ‘‘میتھی’’ کے حوالے سے بھی زبان زدِ عام ہے۔ میتھی یہاں وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔ ہر سال سردیوں میں جب  میتھی کی فصلکٹتی ہے تو قصور کے مختلف مکانوں کے احاطوں  اور چھتوں پر سوکھنے کے لیے بکھری ہوتی ہے۔ جوں جوں یہ سوکھتی جاتی ہے اس کی خوشبو تیز تر ہوتی چلی جاتی ہے پھر تو پورے ماحول میں میتھی کی ہی خوشبو رچی بسی ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ قصور کا ذکر ‘‘میتھی’’ کے بغیر ادھورا ہے۔ یہاں پنجاب کے محترم صوفی شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔

 

Kasoor City

 

 قصور شہر کی تاریخ اور تہذیب سے آگہی حاصل کرنے کے لیے ہمیں ذرا ماضی میں جانا ہوگا۔ مؤرخین کے مطابق قصور کا پرانا نام ‘‘روہی وال’’ تھا۔ کیونکہ اس قصبے کے قریب ہی ایک روہی نالہ بہتا تھا۔ یہ ایک قسم کی برساتی نہر تھی جس کا سلسلہ سابق ریاست بہاولپور تک پھیلا ہوا تھا۔ روہی وال یا پرانا قصور موجودہ جگہ پر نہیں بلکہ قصور کے وسط سے تقریباً میل بھر دور واقع تھا۔ لیکن اب یہ صرف کھنڈرات کا ایک سلسلہ ہے جو ٹیلوں کی شکل میں موجود ہے۔

پرانا قصور کب، کیسے اور کیوں برباد ہوا، اس کی شہادتیں نا کافی ہیں، البتہ ایک عام خیال یہ ہے کہ اس کے دامن میں کبھی دریائے بیاس بھی بہتا تھا، ممکن ہے کہ یہ، دریا کی طغیانی سے برباد  ہو گیا ہو، البتہ یہ بات بہت وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ قصور، مغلیہ دور کے اولین بادشاہوں ظہیر الدین بابر یا اکبر کے عہد میں وجود میں آیا۔ اس کی تعمیر میں وہی چھوٹی چھوٹی پختہ اینٹیں استعمال ہوئیں جو روہی وال کے کھنڈرات سے دستیاب ہوئی  تھیں۔ قصور کی تعمیر ان سپاہیوں کے ہاتھوں ہوئی، جو بابر کی فوج میں افغانستان اور صوبہ خیبر پختون خواہ سے شامل ہوئے تھے۔

kasoor city

قصور کے شمال میں لاہور، جنوب میں ضلع اوکاڑہ، مشرق میں ضلع فیروز پور اور ضلع امرتسر (بھارت) کے علاقے شامل ہیں۔  اس شہر کی لمبائی اور چوڑائی دونوں مساوی یعنی تقریباً ڈھائی ڈھائی.میل.ہیں۔

اس شہر کا طرز تعمیر جہاں اپنے دامن میں قدیم طرزِ تعمیر کو سجائے بیٹھا ہے، اسی طرح جدید انداز میں تعمیر کیے ہوئے مختلف مکانات اور بازار دیکھنے والوں کو خوشگوار احساس دلاتے ہیں۔

یہاں موسم، گرمیوں میں انتہائی گرم اور سردیوں میں خاصا سرد ہوتا ہے۔ موسمِ سرما، جنوری، فروری اور مارچ تک رہتا ہے۔ اس دوران موسم خوشگوار بھی ہوتا ہے کبھی کبھار بارش بھی ہوجاتی ہے۔ جبکہ اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں گرمی اپنے پورے عروج پر ہوتی ہے۔ بارشوں کے مہینے جولائی، اگست اورستمبرہیں۔

 پہلے یہاں آم کے باغات  بھی بکثرت تھے کچھ عرصے سے علاقے میں امرود کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ البتہ آم کی کاشت میں نمایاں کمی آتی ہے ۔ آم کی  جگہ لیچی اور لوکاٹ وغیرہ نے لے لی ہے۔ دوسری اہم پیداوارا میں فالسہ، انار اور سنگترہ قابل.ذکرہیں۔

Kasoor city

قصور شہر کا ‘‘نیا بازار’’ ریلوے روڈ پر کھلے دروازے سے مہاتماں والا دروازے تک تقریباً نصف میل طویل اور بیس فٹ کشادہ بازار ہے۔ اس بازار میں آپ کو مٹی سے بنے برتن، لکڑی کا سامان اور کھلونے، کپڑا، دوائیں اور گھریلو استعمال کی تقریباً ہر شے مل سکتی ہے۔ نان کباب سے شوق فرما نا ہو تو وہ بھی دستیاب ہیں اور فالودہ اور مٹھائی کھانے کو دل چاہ رہا ہو تو شیشوں اور آئینوں سے مزّین کئی دکانیں آپ کی منتظر ہیں۔

فیصل بازار، کپڑے، جنرل مرچنٹس، پیتل، تانبے اور اسٹین لیس اسٹیل کے برتنوں کی دکانوں کے لیے مشہور ہے۔ بازار زرگراں ، گھریلو سامان آرائش، خواتین اور بچوں کے تیار ملبوسات اور آرائش حسن کے سامان کے لیے مشہور ہے۔ صرافہ بازار، سونےچاندی کے زیورات کی کئی دکانوں پر مشتمل ہے۔ اردو بازار میں آپ کو درسی کتب، رسائل اور اسٹیشنری کے سامان کے علاوہ کھیس، دری اور کپڑے کی دکانیں بھی نظرآئیں گی۔

قصور شہر کو یوں تو اپنی مختلف سوغاتوں کے حوالے سے خاصی مقبولیت حاصل ہے لیکن ‘‘میتھی’’ نے اس شہر کی شہرت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ ‘‘میتھی’’ دوسرے شہروں میں بھی پیدا ہوتی ہے لیکن خاص خوشبو اور ذائقہ والی میتھی، قصور میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ میتھی کی نوّے فیصد سے زیادہ فصل سکھالی جاتی ہے اور میتھی کی یہ سوکھی پتیاں نہ صرف شہر میں جگہ جگہ کھلی یا خوبصورت پیکٹوں میں فروخت ہوتی ہیں، بلکہ خاصی بڑی مقدار میں پاکستان کے دور دراز علاقوں  تک بھیجی.جاتی ہیں۔

قصور کو  روایتی سوغاتوں کی خالص دیسی گھی سے تیار ہونے والی مٹھائیوں کی وجہ سے بھی کافی شہرت حاصل ہے۔ ان مٹھائیوں میں سب سے زیادہ ‘‘اندرسے’’ پسند کیے جاتے ہیں۔ ‘‘اندرسے’’ چاول کے آٹے اور چینی کی مدد سے تیار ہوتے ہیں اور گھی میں تلے جاتے ہیں۔

Kasoor city

‘‘اندرسے’’کی طرح قصور کا فالودہ، اپنی مٹھاس اور پرتاثیر ہونے کے باعث اچھی شہرت رکھتا ہے۔  قصور شہر میں چار مشہور معروف تالاب بھی ہیں جو ‘‘چہار تالاب’’ کے نام سے مشہور ہیں۔ پختہ اینٹوں اور چونے سے بنے ہوئے یہ تالاب سو سے ڈیڑھ سو برس قدیم ہیں۔ ان میں تالاب ہری ہر، تالاب نزد پرانا شمشان، تالاب نزد ڈاک بنگلہ اور تالاب متصل دربار حضرت دیوان شامل ہیں۔

تحصیل چونیاں ضلع قصور کے قریب ہی چھانگا مانگا کے جنگلات بھی ہیں۔ یہاں شیشم، شہتوت، سنبل بابولر اور کیکر وغیرہ کے درختوں کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے۔

مقامی آبادی کا رہن سہن  سادہ ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر شلوار قمیض استعمال کرتے ہیں۔قصور کی قدیم عمارات میں سے اکثر ڈھا دی گئی ہیں اور ان کی جگہ اب نئی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ شہر کے میل بھر باہر مقبرہ صدر دیوان صاحبؒ قدیم عمارتوں میں سے ہے۔ پرانے قصور یعنی روہی وال کے بالکل قریب ایک بہت بڑا گنبد ہے لیکن عام گنبد سے ہٹ کر اس کی چوٹی پر چھوٹی سی گول منڈیر ہے جہاں تک چڑھنے کے لیے ایک جانب لوہے کا ایک زینہ بنا دیاگیاہے۔

یہی وہ عمارت  ہے جہاں قصور کے پہلے انگریز حکمران نے قیام کیا، رہائش اختیار کی اور اس میں عدالت بھی لگائی۔

kasoor city

 

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner