https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

پورٹ رائل ۔ بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر

Infonaama > Information > History > پورٹ رائل ۔ بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
The Sunken Pirate City

پورٹ رائل ۔ بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر

آج ہم آپ کو اللہ کے عزاب سے تباہ ہونے والے ایک شہر پورٹ رائل کے بارے میں معلومات دینے جارہے ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجودڑو زمین میں مدفون ہو چکے۔ حضرت نوحؑ کے شہروں یعنی صدوم اور گمورہ پر پتھر برسے اور انکی اینٹ سے اینٹ بج گؑی، پمپؑی شہر کو آتش فشاء پہاڑ وسویس کے ا لاوے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور خود ہمارے زمانے میں ہیروشیما کو ایک چھوٹے سے بم نے صفہؑ ہستی سے مٹا ڈالا۔ لیکن صرف چند سو سال پہلے ہی ایک شہر جس قہر خداوندی کا شکار ہوا اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں ڈھونڈنے سے بھی نہی ملتی۔ کسی زمانے میں جزائر غرب ال ھند ہعنی کیریبین کے ملک جمیکا میں ایک بہت ہی آزاد اور دولت مند شہر آباد تھا جس کا نام پورٹ رائل تھا۔ پورٍٹ رائل نامی یہ شہر اس زمانے میں بہری قزاقوں کا اڈہ تھا اوراسمگلروں کی جنت کہلاتا تھا۔ اس شہر کی ابتدائی کہانی کچھ یوں یے۔

پورٹ رائل ۔ بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
Ruins of the Destroyed city of Sodom

جب کرسٹوفر کولمبس اور اس کے بعد آنے والے جہاز رانوں نے امریکہ دریافت کیا تو اس پر قبظہ کرکے شمال سے جنوب تک اسپین کے جھنڈے گاڑ دیؑے۔ وہ تمام علاقے جن میں سونا اور چاندی پتھروں کی طرح بکھرا ہوا تھا اسپین کے قبظے میں آگئے تھے اور ہسپانوی ملاح جہاز بھر بھر کر یہ خزانے اپنے وطن میں منتقل کر رہے تھے۔

برطانیہ یعنی انگلستان اس دور میں ایک غریب ملک تھا۔ کیونکہ ھندوستان کی بے پناہ دولت اس وقت تک سمٹ کر اس کے خزانے میں نہ پہنچی تھی۔ اس کی فوجی طاقت بھی اتنی مضبوط نہ تھی۔ کہ اسپین سے پنجہ آزمائی کر سکے۔ وہ بس لالچی نظروں سے اپنے حریف کی ذخیرہ اندوزیوں کو دیکھتا رہتا۔

بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
Biblical image showing Prophet Lot leaving Sodom at the time of destruction

آخرکار انگلستان نے اس مسؑلے کا حل ڈاکہ زنی کی صورت میں نکالا۔ سب سے پہلے جس انگلستانی ڈاکو نے ہسپانوی

جہازوں پر حملہ کرکے انکا مال و اسباب لوٹا اسے ملکہ الیزیبتھ نے سر کے اعلیٰ خطاب سے نوازا اور ایک قومی ہیرو کا

درجہ دیا گیا۔

پھر تو چراغ سے چراغ جلنے لگا اس کی دیکھا دیکھی اور بھی سرفروش ملاح نکل کھڑے ہوےٗ۔ اور یہ عاالم ہوگیا کہ جس کے

پاس چھوٹا موٹا جہاز ہوا وہ امریکہ کی جانب چل پڑا۔ اس گہما گہمی کے باعث ضرورت محسوس ہویؑ کہ اس علاقے

میں کویؑ جگہ ایسی ہو جہاں ٹھہر کر ہسپانوی بیڑوں کی آمد و رفت پر نظر رکھی جا سکے چنانچہ انھوں نے جمیکا کے

ساحل پر ایک محفوظ مقام کو اپنا اڈہ بنایا۔ اور سرکاری سرپرستی میں اس کا نام پورٹ رائل رکھا گہا۔ جلد ہی اس مرکز

سے لوٹ مار کی مہمات شروع ہو گہؑیں۔ دنیا بھر سے تخریبی ذہن رکھنے والے افراد یہاں آکر آباد ہونے لگے۔ ان لوگوں کے

پاس لوٹ مار سے حاصل ہویؑ دولت کی بھرمار تھی اس لیؑے چند ہی روز میں یہ ایک بڑا باغ و بہار شھر بن گیا۔

بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
The City of Port Royal Jamaica

شراب خانے قائم ہوےؑ، قمار کانوں میں جوےؑ کی بازیاں لگنے لگیں ناچ اور موسیقی کی مجالس گرم ہوئیں شاندار

عمارات وجود میں آنے لگیں۔ چند آزمودہ اور خونخوار ڈاکووٗں نے مل کر یہاں ایک حکونت قائم کی اور مورگن نامی

ایک نامور بحری قزاق کو اس شھر کا سربراہ بنا دیا گیا۔ اس بحری قزاق نے تمام لٹیروں اور ڈاکووؑں پر ۲۰ پاوؑنڈ

فی پھیرے کے حساب سے ٹیکس عائد کیا۔ رفتہ رفتہ اس شھر کے لٹیروں نے ایسی خونخوار طاقت حاصل کرلی کہ جس

کے سبب وہ نہ صرف جہازوں کو لوٹتے بلکہ اسپین کی نو آبادیات پر بھی حملے کرنے لگے۔ یورپ کے صرافہ بازار اور

غلاموں کی منڈیاں ان لوگوں کے لوٹے ہوےٗ مال سے اٹ گیٗیں جو ظاھر ہے کہ بہت ہی سستا فروخت ہوتا تھا۔ نتیجہ یہ

نکلا کہ جس زمانے میں نیویارک بوسٹن اور واشنگٹن جیسے شھر جھونپڑیوں اور لکڑی کے کھوکھوں سے بنے ہوےؑ تھے

پورٹ رائل اس دور میں سر بفلک عمارتوں کا مسکن بن چکا تھا۔ اور امریکہ کی یہ مشہور بستیاں اس کے سامنے

پسماندہ دیہات معلوم ہوا کرتیں جہاں شراب خانوں اور قہوہ خانوں کی بھرمار تھی۔ اخلاقی حالت اتنی گر چکی تھی

کہ دنیا کی کویؑ خباست ایسی نہ تھی جسکا وہاں دور دورہ نہ ہو۔ فحاشی اور بےحیائی میں اس شھر کے لوگ صدوم اور

پومپؑی تک سے آگے نکل چکے تھے۔ بحری حملوں کے دوران غلام بنائی گئی خواتین سے شھر کی گلیاں اٹی پڑی تھیں۔ جو

جہاں چاہتا اپنی جنسی ھوس کی تسکین کر لیتا۔ جرائم کی کوئی سزا نہ تھی۔ سب رشوت یا سفارش کے زور پر بری

ہوجاتے۔ یہ حالات ایسے ہی نہ جانے کب تک چلتے رہتے کہ 6 جون 1692 کی ایک صبح جب لوگ نیند سے بیدار ہوکر کاروبار

زندگی میں مشغول ہورہے تھے اس شھر کا سب سے بڑا پادری شھر کے سربراہ یعنی سب سے بڑے ڈاکو کے ساتھ شھر

کے گرجا میں بیٹھا شراب کے جام بھر رہا تھا کہ اچانک انھیں اپنے قدموں کی زمین لرزتی ہوئی محسوس ہوئی۔ یہ دونوں

ابھی تک اسے شراب کی شرانگیزی ہی سمجھ رہے تھے کہ دھڑام سے گرجے کی عمارت ان کے سروں پر آن گری۔

 بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
Ruins of Pompeii City

زلزلے کے بعد سمندر نے جوش مارا اور شھر پر یورش کردی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس شھر کی عالیشان دکانیں اور تجارتی

منڈیاں دریا برد ہو گئیں۔ زمین جگہ جگہ سے شق ہوگئ مکانات انسان اور حیوانات سب اس میں سماء گےؑ۔ قبرستان

پھٹ پڑے اور مردے زندہ جسموں کے ساتھ تیرنے لگے۔ سمندر گویا ایک عجائب گھر معلوم ہوتا ہر زندہ اور مردہ شے اس

پر تیر رہی تھی۔ شراب کے نشے میں چور شرابی اور جنسی بدکاریوں میں مشغول یہاں کے شہری اسی حالت میں غرق آب

ہو گےٗ۔ کسی کو سوچنے سمجھنے یا پناہ گاہ تلاش کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

آخر اس قہر خداوندی سے کوئی بھاگ کر جاتا بھی تو کہاں؟ نتیجتہ ہزاروں باشندوں کی بے گوروکفن لاشیں مچھلیوں

کچھووؑں اور مگرمچھوں کی خوراک بن گئیں۔

جونہی دنیا کو یہ علم ہوا کہ سمندر اس شھر کی وہ ساری دولت نگل گیا جو گھروں دکانوں اور تہ خانوں میں محفوظ

تھی، تو ہر قسم کے نوسرباز ملاح اور غوطہ خور وہاں پہنچ گےؑ اور زیر آب نوادرات کی تلاش شروع ہو گئی۔ کئی خوش

قسمت لوگوں کے ھاتھوں ہیرے جواہرات اور بے شمار سونا لگا تو کئی خالی ھاتھ مایوس لوٹے۔

پورٹ رائل ۔ بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
The Sunken Pirate City Port Royal

پورٹ راہٗل کے مقام پر غوطہ خوری کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مختلف سانٗسدانوں نے اس عجوبہ شھر کی تباہی کی

مختلف وجوہات پیش کی ہیں لیکن مورخین آج بھی اس بستی کی اخلاقی برائیوں کو ہی اسکی تباہی کا سبب قرار

دیتے ہیں جہاں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی پیشوا تک شراب نوشی سے محظوظ ہو کر جنسی بدکاریوں میں

ملوس پاےؑ جاتے۔

Read the complete history of Port Royal by clicking the link below

پورٹ رائل ۔ بحری ڈاکوؤں کا غرق آب شھر
Port Royal City Jamaica

جہاں بھی قدرت کے بناےٗ قوانین سے سرکشی کی جاتی ہے وہاں ایسی ہی آسمانی آفات نازک ہوتی ہیں جیسے قوم لوط پمپؑی اور پورٹ رائل جیسے ترقی یافتہ شھروں پر ہوئی۔

Watch the video on our Youtube Channel about Port Royal

Port Royal – The Sunken Pirate City || History in Multiple language Subtitles

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner