https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,DirectLink_1,16138848,https://www.alternativecpmgate.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe infonaama.com,Popunder_1,16138837,"" infonaama.com,SocialBar_1,16325257,""

ہیت شیپسوت ۔ قدیم مصر کی داڑھی والی کامیاب ترین خاتون فرعون

Infonaama > Information > History > ہیت شیپسوت ۔ قدیم مصر کی داڑھی والی کامیاب ترین خاتون فرعون
ہیت شیپسوت ۔ مصر کی داڑھی والی خاتون فرعون

ہیت شیپسوت ۔ قدیم مصر کی داڑھی والی کامیاب ترین خاتون فرعون

اسلام و علیکم دوستوں۔ ہماری آج کی کہانی قدیم مصر کے ایک پراثرار فرعون کے بارے میں ہے جس کا نام تھا ہیت شیپسوت۔

مصر دنیا میں سب سے پہلی انسانی تہذیبیں یہیں پروان چڑھیں۔ یہاں جیسے طاقتور اور رعب و دبدبے والے بادشاہ تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتے۔ فرعون کہلائے جانے والے مصر کے یہ بادشاہ اپنی رعایا کی صرف زندگی ہی نہیں بلکہ موت کے بعد کی زندگی کے مالک بھی کہلاتے تھے۔ لامحدود طاقت اور اختیارات کے سبب مٹی کے یہ پتلے خدائی تک کا دعوہ کرنے سے بعض نہ رہتے۔ ایسے ہی ایک فرعون رامسس ثانی کو راہ راست پر لانے کے لیئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ سلام کو یہاں بھیجا تھا۔ لیکن اس فرعون کے مقدر میں ہدایت نہیں بلکہ تباہی و بربادی لکھی تھی۔ سو خود کو خدا کہنے والے اس طاقتور ترین فرعون کو اللہ تعالیٰ نے دریائے نیل کی موجوں میں غرک کردیا۔

آج ہم آپ کو حضرت موسیٰ علیہ سلام سے بھی پہلے مصر پر حکومت کرنے والے ایک فرعون ہیت شیپسوت کی داستان سنانے جا رہے ہیں۔ جو حقیقت میں فرعون نہیں بلکہ فرعونیہ تھی۔ جس دور میں مصر میں عورت کی حیثیت ایک مویشی اور سازوسامان سے زیادہ نہ تھی، اسی دور میں یہ عورت نہ صرف مردانہ لباس زیب تن کرکے اور مردانہ نام رکھ کربلکہ اپنے چہرے پر ایک نقلی داڑھی تک سجا کر مصر پر نہ صرف حکومت کرتی رہی بلکہ خدائی تک کے دعوے کر ڈالے۔

ہیت شیپسوت ۔ مصر کی داڑھی والی خاتون فرعون

اس کے اختیار کردہ حلیئے کی وجہ سے آج سے چند برس قبل تک موجودہ دور کے سائنس دان بھی اسے ایک مرد ہی تصور کرتے رہے تھے۔ البتہ آج یہ پہیلی مکمل طور پر سلجھائی جا چکی ہے۔ تو چلیئے جانتے ہیں اس خاتون کی زندگی کے بارے میں چند باتیں۔

مصر کے بادشاہ فرعون توتمس کے گھر 1508 قبل مسیح کے دوران ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ جسکا نام ہیت شیپسوت رکھا گیا۔ یہ توتمس اول کی واحد اولاد تھی۔ اس کے علاوہ اسکا ایک بیٹا توتمس ثانی بھی تھا۔ جو اس کی باندی سے پیدا ہوا تھا۔ ہیت شیپسوت جب صرف 12 سال کی تھی تو اسکا باپ توتمس اول مر گیا۔ جس کی جگہ اس کے سوتیلے بھائی توتمس ثانی کو فرعون بنا دیا گیا۔ جبکہ اسکی شادی اپنی ہی سوتیلی بہن ہیت شیپسوت سے کردی گئی۔ اور یہ دونوں مل کر مصر پر حکمرانی کرنے لگے۔

چند سال بعد ہیت شیپسوت کا سوتیلا بھائی اور شوہر توتمس ثانی بھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جس کی جگہ ولی عہد توتمس ثانی کے بیٹے توتمس سوم کو بنا دیا گیا جو کہ اس وقت بہت چھوٹا تھا۔ توتمس سوم اپنے باپ کی طرح ہی اس کی حقیقی بیوی سے نہیں بلکہ باندی سے پیدا ہوا تھا یعنی وہ ہیت شیپسوت کا سوتیلا بیٹا تھا۔ چونکہ ولی عہد بےحد چھوٹا تھا اور اس خاندان کا ان کے علاوہ اور کوئی فرد باقی نہ بچا تھا، تو فرعون کی ذمہ داریاں ہیت شیپسوت نے سنبھال لیں۔

ہیت شیپسوت ۔ مصر کی داڑھی والی خاتون فرعون

ہیت شیپسوت چونکہ ایک فرعون کی بیٹی تھی اور کئی سالوں سے اپنے مرحوم شوہر کے ساتھ حکومت کے معاملات پر کافی اثر انداز رہی تھی لہٰذا کچھ ہی عرصہ میں اس نے باقاعدہ فرعون کے طور پر ذمہ داریاں اپنے قبضہ میں کر لیں اور اپنی مذہبی معلومات کی بدولت ایک جھوٹی کرامت کے ذریعے اہل مصر کے سامنے خود کو مصر کے دیوتا “را” کی بیٹی تسلیم کروا لیا، جس کی بدولت سرکاری ملازمین اور درباری لوگ تو اس کے قائل ہو گئے مگر عوامی سطح پر قبولیت کے لیئے اس نے بالکل مردوں جیسی وضع قطع اختیار کی اور لباس زیب تن کیا۔ اس نے اپنے چہرے پر نقلی داڑھی بھی سجائی۔ اور اپنے نام کو ہیت شیپتو یعنی مردانہ نام میں بدل دیا۔ کیونکہ مصر کے قدیم دیوتائوں کی روایات ایک عورت کی حکمرانی کی قطعی اجازت نہ دیتی تھیں۔

اس سے پہلے بھی ایک عورت سوبیک نیفورو نے بھی فرعون مصر بننے کی جرآت کی تھی۔ لیکن وہ صرف ساڑھے تین سال ہی مصر پر حکومت کر سکی۔ جسکے بعد ایک نئے خاندان نے مصر کی حکومت پر قبضہ کرلیا تھا۔ اسکے برعکس ہیت شیپسوت نے اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کامیابی سے دور کیا اور ہر وہ کام کیا جو ایک کامیاب فرعون نے کیا تھا۔ جہاں اس نے نوبیا اور کنان میں اپنے لشکروں کی قیادت کرکے دشمنوں میں اپنی بہادری کی دھاک بٹھائی وہیں اسکی تعمیر کردہ عمارات آج بھی مصری تاریخ کی بہترین تعمیرات کہلاتی ہیں۔

ہیت شیپسوت کا دور مصری تاریخ کا سنہرا تریں دور کہلاتا ہے جس میں یہاں خوشحالی اور امن و امان کا دور دورہ تھا۔ اس کے کارناموں میں ایک مصر میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور مصر میں تجارت کو بام عروج تک پہنچانا ہے۔ اس نے وہ تمام تجارتی گززرگاہیں کھلوائیں جو کسی دور میں بیرونی حملوں کے باعث تباہ و برباد ہو گئیں تھیں۔ اس نے نہ صرف انکی از سرنو تعمیر کروائی بلکہ اپنے لوگوں میں تجارت کو بے حد فروغ دیا۔ یہاں تک کہ مصر میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج کو پہنچ گئیں۔

ہیت شیپسوت ۔ مصر کی داڑھی والی خاتون فرعون

تجارت کے علاوہ ہیت شیپسوت کی دلچسپی خصوصی طور پرتعمیرات میں تھی۔ اس کے دور میں تعمیر ہوئی عمارات آج بھی ایک تاریخی ورثہ کا درجہ رکھتی ہیں ان میں سب سے قابل ذکر عمارت دیر ال بحری نامی ایک مردہ خانہ اور مندر ہے جو مصری تعمیرات کا ایک ناقابل یقین شاہکار ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس عمارت کی تعمیر میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، اس بارے میں جدید سائنس کو آج تک کوئی علم نہیں۔ اسکے علاوہ ہیت شیپسوت نے افریقہ کی جانب ایک بحری مہم روانہ کی تھی جو وہاں کامیابی اور ملکہ کے لیئے قیمتی تحائف کے ساتھ واپس مصر آئی۔ ان تحائف میں عطر جو کہ ملکہ کو بے حد پسند تھے اور اسکے علاوہ مختلف اقسام کے پودے جو نہایت احطیاط سے جہازوں میں ایسے رکھ کر لائے گئے تھے کہ کوئی بھی پودہ مرجھانے نہ پائے۔ مختلف خطوں سے لائے گئے ان پودوں کی یہاں افزائش کا کارنامہ بھی اسی کے سر جاتا ہے۔

تقریبا 22 سال کامیابی سے مصر پرحکومت کرنے کے بعد، 1458 قبل مسیح میں اس عورت کی موت واقع ہوئی۔ ہیت شیپسوت کی موت کے بعد اسکا سوتیلا بیٹا توتمس سوم مصر کا حکمران بنا اور اس نے ہیت شیپسوت کی بنائی ہر شے کو مصر سے مٹا ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اسکی سوتیلی ماں کو ایک باکمال فرعون کے طور پر یاد رکھے۔ لہٰذا سائنس دانوں کو ہیت شیپسوت کے جتنے بھی مجسمے، اور اس سے متعلق جو بھی تحریریں ملی ہیں وہ سب برباد شدہ ہیں۔

ابتداء میں اس فرعون پر تحقیق کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ اسے ایک مرد فرعون ہی سمجھتے رہے تھے جسکی وجہ اسکے چہرے پر داڑھی اور اسکا مردانہ لباس تھا۔ جو اسکے باقی ماندہ مجسموں میں واضع طور پر عیاں تھا۔ البتہ دور قدیم کی کچھ تحریروں نے سائنس دانوں کو اس پر اثرار فرعون کی نئے سرے سے جانچ کرنے پر مجبور کیا۔ اور جب 2007 میں ہیت شیپسوت کی ممی دریافت ہوئی، تب ماہرین کے یہ نظریات درست ثابت ہوئے کہ مصر کا کامیاب ترین فرعون ہیت شیپتو کوئی مرد نہیں بلکہ ایک عورت تھی۔ جسے ذیابیطس کی بیماری لاحق تھی اور اسکی موت کینسر کی وجہ سے ہوئی۔

Watch more videos like this on our Youtube Channel

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner