https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

بادشاہ بخت نصر – قدیم بابل شہر کا انتہائی ظالم بادشاہ

Infonaama > Information > History > بادشاہ بخت نصر – قدیم بابل شہر کا انتہائی ظالم بادشاہ
Story of King Bakht Nasr

بادشاہ بخت نصر – قدیم بابل شہر کا انتہائی ظالم بادشاہ

اسلام و علیکم دوستوں۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں عراق میں ایک عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی جس کا صدر مقام بابل نامی ایک عجوبہ روزگار شھر تھا۔ اس زمانے میں اس جگہ اور شہر پر بخت نصر نام کا ایک بادشاہ حکومت کیا کرتا تھا۔ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے آس پاس کی تمام چھوٹی اور بڑی ریاستوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ فرعون مصر بھی اس کے سامنے دم مارنے کی جرآت نہ کر سکتا تھا۔

مگر یہ بادشاہ سخت ظالم و جابر تھا۔ یہ ملکوں کو نہ صرف فتح کرتا بلکہ مفتوحہ علاقوں میں آگ لگا کر اچھے بھلے اور خوبصورت شھروں کو تباہ و برباد کر دیتا۔ اور وہاں کے تمام لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے دارالحکومت بابل لے جاتا۔ اس کے ظلم و جبر کی داستانوں سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔

بابل کے بادشاہ بخت نصر کی کہانی
The historic city of Babylon

تورات میں شامل کئی صحائف انبیاء میں بھی بخت نصر کے تباہی و بربادی پھیلانے اور ظلم و بربریت کی داستانیں تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے نینوہ اور ایران کے مختلف قبائل کی حکومتوں کو اپنا ماتحت کرنے کے بعد شام و فلسطین کے علاقوں میں خون کی ندیاں بہائیں۔ وہ قہر الٰہی کی شکل میں شام و  فلسطین کے شھروں اور آبادیوں کو ویران اور مسمار کرتا ہوا بیت المقدس یعنی یروشلم کے دروازے پر آن کھڑا ہوا۔ بیت المقدس پر بخت نصر کا حملہ دراصل وہ خدائی عذاب تھا جس کے مطابق بنی اسرائیل کے نبی حضرت یسییاؐ اور حضرت یرمیہؐ نے بنی اسرائیل کو پہلے سے آگاہ کر رکھا تھا۔ مگر یہودی اپنی بداعمالیوں اور عیاشیوں میں اتنے سرشار تھے، کہ انھوں نے ان پیش گوئییوں کی کوئی پرواہ نہ کی۔ یہودیوں کی زندگی نہ صرف بداخلاقیوں سے بھری ہوئی تھی بلکہ وہ اپنے اس گھنائونے کردار پر فخر بھی کیا کرتے تھے۔

بابل کے بادشاہ بخت نصر کی کہانی
بخت نصر بادشاہ کی کہانی

حضرت دائودؐ اور حضرت سلیمانؐ کے بعد بنی اسرائیل میں 19 بادشاہ گزرے تھے جن میں سے بیشتر ظالم اور بت پرست تھے۔جو خود بھی برائیوں میں مبتلاء رہے اور خلقت کو بھی گمراہ کرتے رہے۔ ان کے دینی رہنمائوں اور عالموں نے اپنی تن پروری کی خاطر ان کی پوری پوری حمایت کی۔ اب یہ لوگ حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے میں بے خوف ہوگئے۔ زناء ان کے لیئے ایک معمولی بات بن گئی۔ انھوں نے اللہ کی کتاب کو نہ صرف یہ کہ پس پشت ڈال دیا بلکہ اللہ پاک کے بھیجے ہوئے وہ پیغمبر جو انھیں بھلائی کی دعوت دیتے، انھیں بھی قتل کرنا شروع کر دیا۔ تب بابل کا بادشاہ بخت نصر ان پر ایک آفت بن کر نازل ہوا۔ اور وہ تباہی مچائی کہ الامان۔

اس کے لشکر نے نہ صرف یہودی مردوں کو تہہ تیغ کیا بلکہ بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو بھی تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ ہزاروں انسان مارے گئے، شھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ یہودیوں کے بادشاہ صدقیہ کے بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کیئے گئے۔ اور پھر اس بادشاہ کی آنکھیں نکلوا کر اسے غلامی کے لیئے بابل روانہ کر دیا گیا۔ بخت نصر نے حضرت سلیمانؐ کے بنائے ہوئے عالیشان ہیکل کو بھی  مسمار کردیا۔ اس کے ستونوں اور دیگر قیمتی ساز و سامان کے ٹکڑے کرکے بابل شھر روانہ کر دیئے گئے۔ تابوت سکینہ بھی اسی دور سے غائب ہے۔ اللہ کی بھیجی ہوئی مقدس کتاب تورآت کے تمام نسخے جلا دیئے گئے۔ شھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے بعد بخت نصر تمام یہودیوں کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے ہانک کر اپنے شھر بابل لے آیا۔ اور انھیں غلامی کے طوق پہنا دیئے گئے۔

بابل کے بادشاہ بخت نصر کی کہانی
بخت نصر کی سجدے کے لیئے بنائی گئی مورتی

ان قیدیوں میں اللہ کے پیغمبر حضرت عزیرؐ، حضرت دانیالؐ اور کئی برگزیدہ بزرگ بھی تھے۔ جو اس زمانہ اسیری میں بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کا کام سرانجام دیتے ریے۔ لیکن اس ظالم بادشاہ نے اللہ کے پیغمبروں کو بھی اپنے ظلم کا نشانہ بنائے رکھا۔ بخت نصر نے بابل میں سونے کی ایک مورتی نصب کروا رکھی تھی اور رعایا کو حکم تھا کہ ہر شخص اسے سجدہ کرے۔ جو سجدہ نہ کرتا اسے آگ میں جھونک دیا جاتا۔ چنانچہ ایک اللہ پر یقین رکھنے والے کئی افراد اس بادشاہ کے ہاتھوں شھید ہوئے۔ انسانی جان کی اس بادشاہ کے نذدیک کوئی اہمیت نہ تھی۔ جب حالت غذب میں ہوتا تو ملک کے دانشوروں تک کا سر قلم کرنے کا حکم جاری کر دیا کرتا۔  انبیاء کی تضحیک و توہین کرتا۔ جب اس کے ظلم حد سے تجاوز کر گئے تب اللہ پاک نے اس کو اپنے عذاب کا نشانہ بنا لیا۔

بائبل میں شامل حضرت دانیالؐ کے صحیفے میں اس عذاب کی تفصیلات کچھ ہوں ملتی ہیں کہ اس بادشاہ نے ایک مرتبہ ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر دریافت کرنے کے لیئے اس نے حضرت دانیالؐ کو اپنے محل میں طلب کیا۔ حضرت دانیالؐ نے بخت نصر کا خواب سننے کے بعد اسے بتایا کہ

عنقریب تو لوگوں میں سے نکال دیا جائے گا، جنگلی جانوروں کی صحبت میں رہے گا، مویشیوں کی طرح گھاس چرے گا، اور آسمان کی اوس میں بھیگے گا، یہاں تک کہ تجھ پہ سات دور بیت جائیں گےتب تو جان لے گا کہ حق تعالیٰ ہی اصل بادشاہ ہے، وہ جسے چاہتا ہے اسے دے دیتا ہے“۔

تقریبا 12 مہینے بعد یہ بات اسی طرح من و عن پوری ہوئی کہ ایک دن بادشاہ بخت نصر اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا اور اچانک ایک پراسرار بیماری کا شکار ہوا۔ اس وقت جو جو باتیں حضرت دانیالؐ نے بخت نصر کے متعلق کہی تھیں وہ تمام کی تمام پوری ہوئیں۔ وہ انسانوں میں سے نکالا گیا، اس نے مویشیوں کی مانند گھاس کھائی، اس کا جسم اوس سے گیلا ہوا یہاں تک کہ اس کے بال عقاب کے پروں اور ناخن پرندوں کی طرح بڑھ گئے۔

بابل کے بادشاہ بخت نصر کی کہانی
اور بخت نصر لوگوں میں سے نکالا گیا اور جانوروں میں رہنے لگا

اس کے مصاحبین اور رفقاء نے اسے سلطنت کی ایک نامعلوم جگہ منتقل کردیا۔ اور اس کی جگہ اس کا بیٹا نظام حکومت چلانے لگا۔ اس عجیب و غریب اور پراسرار بیماری کے دوران، بخت نصر نے سات سال گزار دیئے۔ یہاں تک کہ اس بادشاہ کی عقل ٹھکانے آگئی۔ اور پھر یہ حضرت دانیالؐ اور بنی اسرائیل کے خدا کا احترام کرنے لگا۔ اس نے انھیں تکلیفیں دینا بند کر دیں۔ کتاب دانیال میں یہ باتیں بخت نصر کے حوالے سے بیان ہوئی ہیں۔ 

لیکن کمران کے غاروں سے ملنے والی تحریروں اور دیگر محققین کی رائے کے مطابق، یہ واقعہ بادشاہ بخت نصر کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے بعد بننے والے بادشاہ نبونیت کے ساتھ پیش آیا تھا۔ جو بنی اسرائیل کے عام لوگوں کے ساتھ ان کے برگزیدہ ہستییوں پر بھی بے پناہ ظلم و ستم کے نتیجے میں ایک پراسرار بیماری کا شکار ہوا۔ اور اس نے جنگلی جانوروں کے ساتھ رہنا اور مویشیوں کی مانند گھاس کھانا شروع کر دیا تھا۔ اور اس بادشاہ کو لوگوں کی نظروں سے دور صحرائے عرب کے ایک قدیم شھر تیمہ میں چھپا کر رکھا گیا۔ اس دوران اس کا بیٹا اس کی جگہ حکومت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ سائرس اعظم جنھیں ذوالقرنین بھی کہا جاتا ہے، نے بابل پر قائم اس ظلم و جبر کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اور بنی اسرائیل کو آزاد کر کے انھیں بیت المقدس واپس جانے کی اجازت دی۔ 

اس واقعے سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ پاک ظالم کو چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس دنیا میں ہی اس کے کیئے گئے ظلم کا بدلہ دے دیتے ہیں۔

Watch more videos on our Youtube Channel

دیکھیں بخت نصر کی کہانی ہمارے چینل انفو نامہ پر

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner