https://www.performancetrustednetwork.com/vium7tznms?key=1615f8d267c4a12a31445955bb6ff2fe

Battle of Badr – حق و باطل کی جنگ غزوۂ بدر

Infonaama > Islamic > Battle of Badr – حق و باطل کی جنگ غزوۂ بدر
battle of badr

Battle of Badr – حق و باطل کی جنگ غزوۂ بدر

رمضان المبارک کی 17 تاریخ قدرت نے گویا غزوہ بدر کے لیئے ہی مقرر کی تھی۔ بدر کا معرکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جس میں ایک طرف اللہ کو ایک مان کر اسی سے مدد مانگنے والے، جبکہ دوسری جانب بتوں کے پجاری اور غیر اللہ سے مدد مانگنے والے تھے۔ ایک طرف اہل ایمان تو دوسری طرف ایمان کی دولت سے محروم لوگ۔ ایک طرف اللہ اور اس کے رسول کے شیدائی اور دوسری طرف پتھروں کو معبود ماننے والے، بتوں کی محبت میں غرق لوگ تھے۔

اللہ کو ماننے والے اپنی ذات کو چھوڑ کر اپنے رب کا نام بلند کرنے نکلے تھے جبکہ دوسری طرف اہل قریش اپنے نام و نمود اور بتوں کی خاطر آئے تھے۔ تیرہ سال ظلم و جبر کی چکی میں پسنے والے آج ظالموں سے ٹکرانے چلے تھے۔

تاریخ اسلام میں “غزوۂ بدر” کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس غزوہ نے تاریخ اسلام کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔

یہ بات ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مکہ مکرمہ میں کافروں نے مسلمانوں کو کس قدر ستایا، ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ظلم کا کوئی طریقہ ایسا نیہں تھا جو انھوں نے آزمایا نہ ہو۔ اسلام کی دعوت کو روکنے کے لیئے انھوں نے ہر ہربہ اور ہتھکنڈا استعمال کیا یہاں تک کہ جو لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، انھیں بھی سفیر بھیج کر واپس مکہ معظمہ لانے کی کوششیں کی گئیں تاکہ اپنے ظلم کا بازار جاری رکھ سکیں۔ ظلم کی چکی میں یوں تو سبھی مسلمانوں کو پیسا گیا تھا لیکن خاص بور پر غریب اور مسکین تو گویا ان کے لیئے تر نوالہ تھے۔ ان کے گھر کی کھیتی تھے، جو سلوک چاہتے کر گزرتے۔ انھیں کوئی روکنے والا تھا نہ ہی پوچھنے والا۔

آخر مسلمانوں کو ہثرب کی برف ہجرت کا حکم ہوا۔ ہثرب, مدینہ منورہ کا پرانہ نام ہے۔ادھر مشرکین نے اللہ کے رسولﷺ کو معاذ اللہ قتل کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ انکی تمام تر کوششوں اور رکاوٹوں کے باوجود اللہ کے رسولﷺ اور مسلمان یثرب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اور وہاں اسلام کی دعوت بہت تیزی سے پھیلنے لگی۔

ان خبروں نے جلتی پر تیل کا کام کیا، اور کافروں کے تن بدن میں آگ لگ گئی، مارے پریشانی اور حسد کے ان کا برا حال ہوگیا۔ اب وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں پر اتر آئے، جوڑ توڑ کرنے لگے۔ اس سلسلے میں انھوں نے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ یثرب کے مشہور قبائل اوس اور خزرج کے لوگوں کو خطوط لکھے، یہ وہ لوگ تھے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی بھی شامل تھا۔ ان خطوط کے الفاظ اس قسم کے تھے۔

تم نے ہمارے شخص کو اپنے ہاں ٹھرا لیا ہے۔ تمھارے لیئے ضروری ہے کہ ان سے لڑو اور انھیں وہاں سے نکال دو، ورنہ ہم نے بھی پھر قسم کھائی ہے کہ ہم سب مل کر حملہ کریں گے اور تمھارے جوانوں کو قتل کر دیں گے، تمہاری عورتوں کو اپنے قبضہ میں لے لیں گے۔

عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو جب یہ خطوط ملے تو انھوں نے رسول اللہﷺ سے جنگ کی ٹھان لی اور تیاریاں کرنے لگے۔

انھوں نے یہودیوں کو ساتھ ملا لیا اور مسلمانوں کو پیغام بھیجا: “تم مغرور نہ ہو جانا کہ مکہ سے صاف بچ کر نکل آئے ہو، ہم یثرب پہنچ کر تمہارا خاتمہ کر دیں گے”۔

سنہ 2 ہجری، ربیع الاول کے مہینے میں قریش کا ایک سردار یثرب آیا اور مسلمانوں کے مویشیوں کو ہانک کر لے گیا۔ یہ مویشی مدینہ سے باہر چراہگاہ میں چر رہے تھے۔ وہ صاف بچ کر نکل گیا اور مسلمانوں کو یہ بتا گیا کہ ہم 300 میل کے فاصلے سے بھی تمھارے گھروں سے مویشی لے جا سکتے ہیں۔

ان حالات میں رسول کریمﷺ کے لیئے ضروری ہو گیا تھا کہ آپؐ مسلمانوں کی حفاظت کے لیئے ضروری اقدامات کریں تالہ دشمن انھیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس سلسلے مین نبی کریمﷺ نے قریب قریب آٹھ جنگی مہمات مختلف علاقوں کی جانب روانہ فرمائیں۔ ان میں سے بعض میں آپؐ نی خود بھی شرکت فرمائی۔ اور بعض صرف صحابہ کرامؓ نے سر کیں، تاہم کسی بڑی لڑائی کی نوبت نہ آئی۔

مکہ کے لوگ تاجر تھے، ان کے قافلے سردیوں میں یمن جاتے اور گرمیوں میں شام۔ شام کا راستہ یثرب سے ہو کر گزرتا تھا جس کا نام نبی کریمﷺ کی ہجرت کے بعد مدینتہ النبی رکھا گیا تھا۔ ابو سفیان قریش کا ایک بڑا تاجر تھا، اسکی قیادت میں ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس قافلے میں ایک ہزار اونٹ تھے، ان اونٹوں ہر کم از کم پچاس ہزار دینار یعنی 262 کلو سونے کے برابر مالیت کا سامان لدا ہوا تھا، جبکہ نگرانی پر صرف 40 آدمی تھے۔ مسلمانوں کو اس قافلے کے روانہ ہونے کی خبر مل گئی، اللہ کے رسولﷺ نے اس قافلے کو روکنے کا فیصلہ کیا، چنانچہ آپٌ نے صحابہ کرام کو تیاری کرنے کا حکم فرمایا۔

چونکہ مسلمان اپنا مال و اسباب ہجرت کے وقت چھوڑ کر آئے تھے، اگرچہ انصار مدینہ نے انکی ہر طرح سے مدد کی تھی لیکن وہ نہایت تنگ دستی کے عالم میں تھے۔ دوسری جانب اس قافلے کا ساز و سامان کافروں کی طاقط میں اجافے کا سبب بن سکتا تھا۔ ان حالات میں نبی کریمﷺ نے انکی قوت کو کمزور کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ چونکہ مسلمان اس وقت مکہ والوں سے حالت جنگ میں تھے، تو یہ ایک بہترین فیصلہ تھا۔

ادھر ابو سفیان بھی غافل نہ تھا، وہ جانتا تھا کہ مسلمان اس کے خلاف کاروائی کرنے کی کوشش کریں گے۔ شام کی طرف جاتے ہوئے تو وہ صاف بچ نکلا تھ، لیکن واپسی پر جب اسے مسلمانوں کی تیاریوں کی خبر ملی تو وہ اور زیادہ گھبرا گیا۔ اس نے فورا مکہ پیغام بھیجا کہ قافلہ خطرے میں ہےوہ جلد از جلد یس کی مدد کے لیئے روانہ ہو جائیں۔

اس نے اپنا راسنہ تبدیل کردیا، سیدھا راستہ چھوڑ کر ایک دور دراز کا راستہ اختیار کیا تاکہ مسلمان اس تک نہ پہنچ سکیں۔ اس طرح وہ قافلے کو بچا کر مکہ لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ دوسری جانب جب مکہ والوں کو ابو سفیان کا پیغام ملا تو وہاں کہرام مچ گیا۔ ابو جہل تو پہلے ہی بہانے کی تلاش میں تھا۔ چنانچہ اس نے خوب شور مچاکر ایک قافلہ مدینے کی جانب روانہ کر دیا۔ اس لشکر کی تعداد شروع میں تیرہ سو تھی۔

ایک طرف یہ لشکر مدینہ کی طرف رواں تھا تو دوسری جانب ابو سفیان اپنے قافلے کو لے کر مکہ کے قریب پہنچ گیا۔ اس نے اپنے بچ کر آجانے کی اطلاع سرداروں کو دے دی تھی جو لشکر کی قیادت کر رہے تھے۔ مگر ابو سفیان کا پیغام مل جانے کے باوجود وہ اپنی طاقت کے نشے میں چور آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔

ان کا خیال تھا کہ جن مسلمانوں پر وہ تیرہ سال ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے رہے ہیں، وہ بھکا ان کے مقابلے میں آنے کی کیا ہمت کریں گے۔ اور آ بھی گئے تو ہم انھیں تہس نہس کر کے رکھ دیں گے۔ ابو جہل غرور سے بولا: “اللہ کی قسم جب تک ہم بدر نہ پہنچ جائیں، واپس نہیں جائیں گے۔ وہاں تین دن قیام کریں گے، خوب اونٹ ذبح کریں گے، عورتیں ہمارے لئے گانے گائیں گی، ہم اپنی طاقت کا خوب مظاہرہ کریں گے۔ اس طرح پورے علاقے پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی اور مسلمان پھر کبھی ہمارے مقابلے پر آنے کی جرآت نہ کریں گے“۔

بنو زہرہ کے سردار نے یہاں اختلاف کیا کہ جب ابو سفیان مکہ پہنچ گیا ہے تو اب کیوں جنگ کی جائے؟ اور وہ اپنے تین سو آدمی لے کر واپس لوٹ گیا۔ اس کی دیکھا دیکھی بنو ہاشم نے بھی واپس جانا چاہا مگر ابو جہل نے سختی سے انھیں روک لیا۔ اس طرح کافروں کے لشکر کی تعداد ایک ہزار رہ گئی۔

اللہ کے رسولﷺ کو جب قریش کے نکلنے کا علم ہوا تو آپؐ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابو بکر صدیقؓ اٹھے اور کفار سے جنگ کے حق میں ایک پرجوش تقریر کی۔ ان کے بعد حضرت عمرؓ نے بھی ان کی تائید میں ایک زبردست تقریر کی۔ پھر حضرت مقداد بن عمروؓ اٹھے اور عجیب الفاظ میں تقریر فرمائی جو تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ کے لئے درج ہو گئی۔

اے اللہ کے رسولﷺ! ہم ایسے نہیں کہیں گے جیسے موسی کی قوم نے ان سے کہا تھا کہ اے موسی تم اور تمہارا رب جائو اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم آپ کے ساتھ دائیں بائیں آگے پیچھے ہر جگہ لڑائی کریں گے"۔

ان الفاظ کو سن کر نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ آپﷺ نے مزید مشورہ چاہا تو حضرت سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی: “اے اللہ کے رسولﷺ، اب شاید آپ انصار مدینہ کا خیال جاننا چاہتے ہیں“۔ ان کے جواب میں رسول اللہﷺ نے فرمایا” “ہاں! یہی بات ہے“۔

انصار مدینہ نے کہا: “اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺ کو حق اور سچ کے ساتھ معبوس فرمایا ہے، اگر آپﷺ ہمیں لے کر سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم بلا تردد کود پڑیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ آپﷺ دشمن سے ٹکرا جائیں، ہم جنگ میں ثابت قدمی دکھانے والے اور لڑائی کے ماہر ہیں”۔

رسول اللہﷺ انکی باتیں سن کر بےحد خوش ہوئے اور فرمایا “چلو! اللہ نے مجھ سے کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور اللہ کی قسم! میں تو اس وقت بھی کفار کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں، میں دیکھ رہا ہوں کہ کون کہاں قتل ہوگا!“۔

مسلمانوں نے میدان جنگ کے شمال مشرق میں رسول اللہﷺ کے لیئے ایک اونچے ٹیلے پر چھپر بنا دیا تھا جہاں سے پورا میدان جنگ نظر آتا تھا۔ آپﷺ میدان جنگ میں تشریف لے گئے۔۔۔۔یہاں آپﷺ فرماتے جارہے تھے: “ان شاء اللہ کل فلاں مشرک یہاں قتل ہوگا، یہ جگہ کل فلاں کافر کی قتل گاہ ثابت ہوگی اور اس جگہ فلاں شخص کی لاش پڑی ہوگی“۔

اگلے دن جنگ سے پہلے آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی صف بندی شروع کی اور صفوں کی درستگی کے بعد رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکرؓ، چھپر کی طرف تشریف لے آئے اور اپنے رب کے حضور دعاء میں مشغول ہوگئے۔ آپﷺ کی دعاء کے الفاظ یہ تھے۔

اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو روئے زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا۔ اے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما۔ اے اللہ ہم تجھ سے تیری مدد کے طلبگار ہیں۔

آپﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے، آنکھوں میں آنسو لیئے مسلسل دعائیں مانگ رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر مبارک کندھوں سے نیچے سرک گئی۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ آپﷺ کے پیچھے کھڑے تھے انھوں نے چادر درست کی۔ رسول اللہﷺ نے کافی دیر تک یونہی دعا مانگنے کے بعد حضرت ابو بکرؓ سے فرمایا: ابو بکر، تمھیں مبارک ہو! اللہ کی طرف سے مدد آ پہنچی، یہ جبرائیلٔ گھوڑے کی لگام پکڑے کھڑے ہیں۔

غززوہ بدر کا معرکہ

The battle of Badr – Ghazwa e Badr 17th Ramzan ul Mubarak

جنگ کا آغاز مشرکیں کی طرف سے آنے والے ایک تیر سے ہوا۔ یہ تیر حضرت عمر بن خطابؓ کے غلام حضرت مھجعؓ کو لگا جس سے وہ شھید ہوگئے۔ اس طرح وہ غزوہ بدر کے پہلے شھید قرار پائے۔ دوسرے شھید حضرت حارثہ بن سراقہ انصاریؓ تھے۔ یہ پانی پینے حوض کی طرف گئے، حوض پر مامور صحابی نے انھیں دشمن خیال کر کے تیر چلا دیا جو انکے حلق پر لگا اور وہ شھید ہو گئے۔

مشرکوں کی طرف سےاسود بن عبدالاسود نام کا شخص نکلا اور بلند آواز میں للکارا:”میں مسلمانوں کے حوض سے پانی پیئوں گا اور حوض کو مسلمانوں کے سامنے برباد کروں گا”۔ اس کی بات کے جواب میں سیدنا حمزہؓ آگے بڑھے، اسے للکار کر اس کے مقابلے کے لیئے آئے۔ اس سے پپہلے کہ وہ وار کرتا، حضرت حمزہؓ کے ایک ہی وار سے اسکا کام تمام ہوگیا اور وہ جہنم واصل ہوگیا۔

س زمانے کے جنگی دستور کے مطابق کافروں کی طرف سے تین بہادر جنگجو میدان میں آئے اور للکارا کہ کون آئے گا ہمارے مقابلے پر؟ اسلامی لشکر میں سے تین انصاری صحابہؓ نکلے۔ مشرکوں نے ان سے نام پوچھے اور سن کر بولے کہ اے محمد! ہمارے مقابلے کے لیئے کوئی ہمارے جوڑ کا بھیجیں جو کہ ہماری قوم میں سے ہی ہو اور ہمارے برابر کا ہو۔

اس پر رسول اللہﷺ صحابہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: “عبیدہ بن حارث نکلو اللہ کی راہ میں، حمزہؓ نکلو اللہ کی راہ میں، علی ابن ابی طالبؓ آگے بڑھو اللہ کی راہ میں” یہ تینوں حضرات صفوں سے نکل کر جب مقابلے کے لیئے پہنچے تو قریش بولے کہ اب آئے گا لڑائی کا مزہ، یہ ہماری برابری کے لوگ ہیں۔ آخر معرکہ شروع ہوا۔

حضرت عبیدہؓ ومر میں سب سے بڑے تھے۔ انھوں نے عتبہ سے مقابلہ کیا، حضرت حمزہ کا مقبلہ ہوا شیبہ سے جبکہ حضرت علیؓ کا مقابلہ ولید سے ہوا۔ حضرت حمزہ نے ایک ہی وار میں شیبہ کا کام تمام کر دیا۔ اسی طرح حضرت علی ولید پہ حملہ آور ہوئے، وہ انکا وار نہ روک سکا اور تلوار اس کے کندھے کو کاٹتی ہوئی نکل گئی اور وہ بھی ڈھیر ہوگیا۔ حضرت عبیدہ اور عتبہ میں کافی دیر تک مقابلہ ہوا دونوں نے ایک دوسرے کو زخمی کیا حضرت عبیدہ کو گہرے زخم آئے۔ چنانچہ حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر عتبہ کا کام تمام کر دیا۔

جنگ کی ابتداء میں ہی کفار کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ گیا اور انکے 4 نامی گرامی بہادر مارے گئے۔ اب عام لڑائی شروع ہوئی۔ صحابہ کرامؓ اس جنگ میں نہایت بہادری اور بے جگری سے لڑے اور یہاں کئی حیرت انگیز واقعات بھی پیش آئے۔ اللہ کے رسولﷺ نے جنگ کے شروع میں صحابی سے فرمایا تھا کہ “اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جو شخص آج جم کر، ثواب سمجھ کر لڑے گا، دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائے گا، سامنے سے خوب وار کرے گا اور خوب بہادری دکھائے گا، اللہ تعالی اسے آج جنت عطاء فرما دیں گے“۔

عمیر بن حمامؓ ایک انصاری صحابی تھے۔ جب انھوں نے اللہ کے رسولﷺ سے یہ بشارت سنی، اس وقت وہ کھجوریں کھا رہے تھے۔ فورا ہاتھ رعک لیا، کھجوروں کی طرف دیکھا اور کہا “یہ تو زیادہ ہیں، ان کے کھانے میں تو بہت وقت لگے گا، جنت میں جانے کے لیئے اتنا انتظار میں کیوں کروں؟“۔ یہ کہا، کھجوریں پھینکیں اور لڑائی میں کود پڑے۔ پوری جواں مردی سے لڑے اور دشمنوں کو مارتے مارتے خود بھی جام شہادت نوش کر گئے۔

مسلمانوں کی یہ جواں مردی اور اللہ کی طرف سے فرشتوں کی صورت میں بھیجی گئی مدد کے ساتھ اہل کفار کا لشکر گاجر مولی کی طرح کٹا جا رہا تھا۔ تاحد نگاہ کفار کے کٹ کٹ کر گرتے سر نظر آتے تھے۔

اسلام کا سب سے بڑا دشمن اور اس وقت کا فرعون، ابو جہل اس لشکر کا سالار تھا۔ وہی ان سب کو اکسا کر میدان میں لایا تھا۔ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہاء اور قدم قدم پر ان کے لیئے مشکلات پیدا کرنے والا ابو جہل آج اس لشکر کا سپہ سالار تھا اور انھیں لڑا رہا تھا۔

حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ فرماتے ہیں “میدان جنگ میں اچانک 2 نوجوان میرے دائیں بائیں آکھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا: چچا جان ابو جہل کہاں ہے؟َ میں نے کہا: بھتیجے تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ وہ بولا ہم نے سنا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو گالیاں دیتا ہے چنایچہ میں نے عہد کیا ہے کہ اسے قتل کروں گا ےا خود مر جائوں گا۔ اتنے میں دوسرے نوجوان نے بھی یہی سوال کیا۔ میں نے اشاارے سے انہیں بتا دیا کہ وہ رہا ابو جہل!“۔

دونوں تلواریں لئیے اس طرف لپکے۔ ان دونوں کے نام معاذ بن عمرو بن جموحؓ اور معاذ بن عفراءؓ تھے۔ ابو جہل کے آس پاس بہت سے لوگ اسے گھیرے ہوئے تھے اور کہتے تھے کہ آج ابوالحکم یعنی ابو جپل کے پاس بھی کوئی نہ آ سکے گا۔ معاذ بن عمرو تیر کی طرح اس طرف بڑھے اور اللہ کی قدرت کہ سیدھا اس کے پاس جا پہنچے اور جاتے ہی تلوار کا وار اس کی پنڈلے پر کیا، پنڈلی کٹ گئی، باپ کو زخمی دیکھ کر عکرمہ بن ابو جہل جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے انھوں نے معاذؓ کے کندھے کر وار کیا تو انکا بازو کٹ گیا اور کھال کے ساتھ لٹکنے لگا۔ یہ اسی حال میں جنگ کرتے رہے۔ ابو جہل ان کے وار سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔ ایسے میں معاذ بن عفراءؓ اس کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انھوں نے بلا کی پھرتی سے اس پر وار کیا جس سے وہ گھوڑے سے نیچے آگرا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو ابو جپل میں کچھ سانسیں باقی تھیں، وہ یہ دیکھ کر رک گئے اور اس کی گردن پر پائوں رکھ کر فرمایا: “اے اللہ کے دشمن! تجھے اللہ نے آج رسوا کر دیا”۔ پھر انھوں نے اس کا سر کاٹ لیا۔

معرکہ بدر میں مسلمانوں کی فتح

بدر میں اللہ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی، انھیں فتح نصیب ہوئی۔ اس دن کو ” یوم فرقان ” کہا گیا۔ یہ حق و باطل کی پہلی جنگ تھی۔ اس جنگ نے قریش کا غرور خاک میں ملا دیا۔ ان کے 70 بڑے سردار اور بہادر مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوئے۔ مسلمانوں کی طرف سے کل 14 شھید ہوئے۔ مال غنیمت بڑی تعداد میں ہاتھ آیا۔

مدینہ منورہ میں فتح کی خوش خبری

اللہ کے رسولﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو فتح کی خوش خبری کے ساتھ مدینۃ منورہ روانہ کیا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ جنگ بدر میں شرکت نہیں کر سکے تھے کیونکہ ان کی اہلیہ حجرت رقیہؓ شدید بیمار ہو گئیں تھیں۔ اور آپؓ نبی کریمﷺ کی بیٹی بھی ہیں چنانچہ اللہ کے رسولﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو مدینہ ٹھر کر اپنی زوجہ کی تیمارداری کا حکم فرمایا۔ اس لیئے حضرت عثمانؓ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے لیکن آنحضرتﷺ نے انھہں بدر میں شریک قرار دیا۔

اتفاق دیکھئیے، ادھر بدر کے میدان میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور فتح کی خوشخبری مدینہ پہنچی۔ اور ادھر حضرت رقیہ وفات پا گئیں۔ رسول اللہﷺ نے تین دن بدر میں قیام فرمایا اور روانہ ہونے سے قبل شرکائے بدر میں مال غنیمت تقسیم کیا اور اس کے بعد مدینہ روانہ ہو گئے۔

جنگ بدر میں شرکت کرنے والوں کی فضیلت

شرکائے بدر کی اسلام میں اہمیت، ان کا مقام اور مرتبہ نے حد افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “غزوہ بدر کے شرکاء جہنم میں نہیں جائیں گے“۔ گویا انھیں جنت کی خوشخبری سنا دی گئی۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ: “اللہ نے شرکائے بدر کے اعمال پے فرمایا: اب تم جو بھی عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا اب جنت تم پر واجب ہے“۔

ایک مرتبہ حضرت جبرائیلٔ نے نبی اکرمﷺ سے پوچھا کہ “اے اللہ کے رسولﷺ، آپ کو اپنے اصحاب میں کون سب سے زیادہ محبوب ہیں؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا “میرے بدر کے صحابہ، جنہوں نے بدر میں شرکت کی تھی“۔ پھر حضورﷺ نے حضرت جبرائیلٔ سے سوال کیا کہ “اے جبرائیلٔ! اللہ کو تمام فرشتوں میں کون سے فرشتے زیادہ محبوب ہیں؟ حضرت جبرائیلٔ نے جواب میں کہا “وہ تمام فرشتے جو بدر میں آپﷺ کی مدد کے لیئے آئے تھے“۔

جنگ بدر اور اس میں شریک اصحابؓ کی فضیلت نہ صرف اللہ کے رسولﷺ متعدد مواقع پر بتا چکے ہیں بلکہ بذات خود اللہ پاک کے یہاں بھی ان کی افصلیت ثابت ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس مرتبہ 17 رمضان المبارک جمہ کے روز آ رہا ہے اور یہی دن غزوہ بدر کے وقوع کا دن ہے۔ کوشش کریں کہ اس دن کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ ایسا 25 یا 30 سالوں میں ایک بار ہوتا ہے کہ 17 رمضان جمعہ کے مبارک دن ہو۔

اس دن کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں وقف کریں اور اگر ہو سکے، تو اللہ کے راستے میں نکلنے کا ارادہ کر لیں۔ رمضان کا مہینہ، اللہ کا راستہ اور بدر کا مبارک ترین دن جو نہ جانے اگلی بار مجھے نصیب ہو یا نہیں؟ اپنی دعائوں میں یاد رکھئیے گا۔

Leave a Reply

Cookie consent by Real Cookie Banner